ہندوستانی نژاد امریکی کا ٹیکساس میں 8.2 ارب ڈالر کا ایل این جی منصوبہ منظور
امریکہ نے ہندوستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت شراد تاک کی کمپنی ایس ٹی ایل این جی کو ٹیکساس کے ساحل کے قریب 8.2 ارب ڈالر کی لاگت سے گہرے سمندر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی بندرگاہ تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے سے امریکہ کی گیس برآمد کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق، مجوزہ بندرگاہ ٹیکساس کے شہر ماتاگورڈا کے ساحل سے تقریباً 10.4 میل دور تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے پر تعمیراتی کام 2027 میں شروع ہونے اور بندرگاہ کے 2029 تک فعال ہونے کا امکان ہے۔
امریکی وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے بتایا کہ میری ٹائم ایڈمنسٹریشن نے ماحولیاتی جائزے اور لائسنسنگ کے عمل کو تیز کرتے ہوئے حتمی ماحولیاتی رپورٹ صرف 410 دن میں مکمل کی، جبکہ اس عمل میں عام طور پر پانچ سال تک لگ سکتے تھے۔
منصوبے میں 20 پلیٹ فارم اور چار تیرتے اسٹوریج یونٹ
محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق، منصوبے کی مکمل صلاحیت کے تحت بندرگاہ میں 20 پلیٹ فارم، مائع قدرتی گیس ذخیرہ کرنے کے چار تیرتے یونٹ، چار جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے نظام اور تقریباً 7.7 میل طویل پائپ لائن شامل ہوگی۔ اس بندرگاہ میں سالانہ 84 لاکھ ٹن ایل این جی برآمد کرنے کی صلاحیت ہوگی۔
گیس کی فراہمی ٹریس پالا سیوس نیچرل گیس اسٹوریج اینڈ ٹریڈنگ ہب اور ولیمز مارکھم گیس پروسیسنگ پلانٹ سے موجودہ ٹرانسکو پائپ لائن کے ذریعے کی جائے گی۔ حکام کے مطابق، ساحل سے دور بندرگاہ قائم ہونے سے مصروف ساحلی علاقوں میں جہازوں کی آمدورفت اور تصادم کے خطرات بھی کم ہوسکتے ہیں۔
ایس ٹی ایل این جی کے بانی اور چیف ایگزیکٹیو شراد تاک نے کہا کہ یہ منصوبہ امریکی توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق، تعمیراتی مرحلے میں تقریباً 2 ہزار ملازمتوں اور بندرگاہ فعال ہونے کے بعد 855 مستقل ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔
امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کے تخمینے کے مطابق، اس منصوبے سے ملک کی ایل این جی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔



