بین الاقوامیعرب دنیا

یورپ میں فسادات کا خرچ کون اٹھائے گا؟ فرانس کا بڑا فیصلہ

یورپ میں بڑھتے ہوئے پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد حکومتیں فسادیوں کے ساتھ ان کے والدین اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی جواب دہ بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ فرانس کی سینیٹ نے ایک متنازع بل کو 229 کے مقابلے میں 105 ووٹوں سے منظوری دے دی ہے، جس کے تحت فسادات میں ہونے والے نقصانات کی رقم بعض حالات میں خاندانوں کو ملنے والی رہائشی امداد اور دیگر سرکاری الاؤنسز سے بھی وصول کی جاسکتی ہے۔

یہ فیصلہ فرانس میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے خلاف احتجاج کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکام کے مطابق، ایک ہفتے کے اختتام پر پولیس نے تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کیا، جبکہ ہزاروں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا یا انہیں لوٹا گیا۔ نقصانات کا تخمینہ ایک ارب یورو سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ لیموج شہر کی 19ویں صدی کی تاریخی سٹی ہال عمارت بھی آگ کی زد میں آگئی تھی۔

فسادیوں کے ساتھ والدین بھی جواب دہ ہوں گے؟

مجوزہ بل کے مطابق، اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے تشدد کی تیاری کرنے والے گروپ میں شامل ہوتا ہے یا پولیس کے منتشر ہونے کے حکم کے باوجود پرتشدد ہجوم میں موجود رہتا ہے تو اسے دوسروں کی جانب سے کیے گئے نقصانات کے لیے بھی 10 ہزار یورو تک ادا کرنے کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔

عدالتی فیصلہ حتمی ہونے کے بعد رقم کی وصولی خاندانی الاؤنس، رہائشی امداد، کم آمدنی والے افراد کو ملنے والی مالی مدد اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کے لیے دیے جانے والے الاؤنس سے بھی کی جاسکتی ہے۔ نابالغ بچوں کی جانب سے کیے گئے نقصان کی صورت میں والدین کی ذمہ داری بھی برقرار رہے گی، تاہم ضروری اخراجات کے لیے ایک کم از کم رقم محفوظ رکھی جائے گی۔

بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دکانوں اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنی چاہیے، نہ کہ ٹیکس دہندگان یہ بوجھ اٹھائیں۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس قانون سے غریب خاندان متاثر ہوسکتے ہیں اور پُرامن احتجاج کرنے والے افراد بھی خوف کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اٹلی اور اسپین میں بھی سخت اقدامات

اٹلی میں بھی نابالغ بچوں کے فسادات میں ملوث ہونے پر والدین کے لیے ایک ہزار یورو تک جرمانے اور نقصان کی تلافی کی ذمہ داری متعارف کرائی گئی ہے۔ آن لائن تشدد منظم کرنے پر چار سے 12 سال تک قید کی سزا بھی رکھی گئی ہے۔

اسپین کے شہر بارسلونا میں 24 اکتوبر کے احتجاج کے دوران دکانوں میں لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے، جن میں پولیس نے 130 افراد کو گرفتار کیا، ان میں 76 نابالغ تھے۔ بعض اجتماعات کے لیے ٹک ٹاک، واٹس ایپ اور ٹیلی گرام گروپس کے ذریعے رابطے کیے گئے تھے۔

فرانس کے مجوزہ قانون میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تشدد اور لوٹ مار پر اکسانے والے مواد کو ہٹانے کے احکامات دینے اور عدم تعمیل کی صورت میں ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی گنجائش بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی سینیٹ کی منظوری کے باوجود یہ بل ابھی قانون نہیں بنا ہے۔ اسے حتمی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button