آکاش امبانی کا جیو کے اگلے 10 سال کا منصوبہ، ہر ہندوستانی تک اے آئی، کلاؤڈ اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ پہنچانے کا ہدف
ریلائنس جیو کے منیجنگ ڈائریکٹر آکاش امبانی نے کمپنی کے آئندہ 10 سال کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیو کا مقصد ٹیلی کام خدمات سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو ملک کے ہر شہری تک پہنچانا ہے۔ کمپنی ان ٹیکنالوجیز کو عام لوگوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے بھی قابلِ رسائی بنانے پر توجہ دے گی۔
جیو پلیٹ فارمز کی اسٹاک مارکیٹ میں فہرست سازی کی تقریب کے دوران آکاش امبانی نے کمپنی کے مستقبل کے منصوبوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبے میں توسیع کے عزائم پیش کیے۔ ان کے مطابق، جیو نے اپنے پہلے 10 برسوں میں ڈیٹا کو عام لوگوں تک پہنچانے اور کروڑوں افراد کو ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے پر توجہ دی، جبکہ اب اگلے مرحلے میں جدید ٹیکنالوجی کے فوائد ہر ہندوستانی تک پہنچانے کا ہدف ہے۔
جیو کے تین اہم اہداف
مصنوعی ذہانت: جیو ہندوستانی زبانوں اور مقامی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور خدمات کو کم قیمت پر دستیاب کرانے پر توجہ دے گا۔ اس سے عام صارفین اور چھوٹے کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کلاؤڈ ٹیکنالوجی: کمپنی سستے کلاؤڈ پی سی، کلاؤڈ سے منسلک آلات اور دیگر ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ صارفین کو جدید کمپیوٹنگ سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مہنگے آلات خریدنے کی ضرورت کم ہو۔
سیٹلائٹ انٹرنیٹ: جیو سیٹلائٹ براڈبینڈ کے ذریعے ان پہاڑی، جنگلاتی، سرحدی اور دیہی علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچانے پر توجہ دے گا جہاں روایتی موبائل ٹاورز یا فائبر نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔
آکاش امبانی نے کہا کہ کمپنی کا اگلا مرحلہ ایسی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل خدمات کو عام کرنے پر مرکوز ہوگا جو لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتی ہیں۔ انہوں نے جیو کے عوامی حصص کی پیش کش کو کامیاب بنانے میں ہندوستان اور بیرون ملک کے انفرادی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے تعاون پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔
جیو کا یہ منصوبہ کمپنی کو روایتی ٹیلی کام خدمات سے آگے بڑھا کر مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور سیٹلائٹ رابطے سمیت وسیع تر ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔



