تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

حیدرآباد میں ایس آئی آر کے خلاف طلبہ اور کارکنوں کا احتجاج، انتخابی نظرثانی واپس لینے کا مطالبہ

دھرنا چوک پر مختلف تنظیموں کا مظاہرہ، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی کمشنروں کی تقرری سے متعلق قانون کی منسوخی کا بھی مطالبہ

حیدرآباد شہر میں اتوار کو طلبہ، سماجی کارکنوں اور مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کیا اور اس عمل کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج ہوسکتے ہیں۔

یہ احتجاج اندرا پارک کے دھرنا چوک پر منعقد کیا گیا، جس کا اہتمام اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او)، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) اور دیگر تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ مظاہرہ ’’پیپل اگینسٹ ایس آئی آر — تلنگانہ فار ڈیموکریسی‘‘ کے بینر تلے منعقد ہوا۔

احتجاج میں شریک افراد نے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کا عمل فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی منصفانہ، شفاف اور جوابدہ طریقے سے ہونی چاہیے تاکہ کسی بھی اہل شہری کو اپنے حق رائے دہی سے محروم نہ ہونا پڑے۔

مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، شرائطِ ملازمت اور مدتِ کار سے متعلق قانون 2023 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

احتجاجی تنظیموں نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقۂ کار پر اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے زور دیا کہ اس عمل میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے اور تمام اہل شہریوں کے ووٹ دینے کے حق کا تحفظ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button