بین الاقوامیعرب دنیا

کم جونگ اُن کا دورۂ چین، نئے سرحدی پل کا افتتاح؛ بیجنگ سے تعاون بڑھانے پر اتفاق

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ہفتہ کو چین کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کو ملانے والے نئے سرحدی پل کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے چین کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ اس دورے کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جارہا ہے جب پیانگ یانگ، بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد اور چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق، کم جونگ اُن نئے پل سے گزرنے کے بعد چین کے سرحدی شہر ڈانڈونگ پہنچے۔ یہ تقریباً ایک سال بعد ان کا چین کا دورہ ہے۔

چین کے ساتھ تعاون بڑھانے پر زور

کم جونگ اُن نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی قائمہ کمیٹی کے رکن وانگ ہوننگ سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے ایک کار ساز فیکٹری کا دورہ کیا اور دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

شنہوا کے مطابق، کم جونگ اُن نے کہا کہ شمالی کوریا چین کے ساتھ تاریخی دوستی کو آگے بڑھانے اور عملی تعاون میں توسیع کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد حاصل ہوں۔

نئے پل سے تجارت کو فروغ ملنے کی توقع

ماہرین کے مطابق، رواں ماہ کھولے گئے نیو یالو ریور برج کو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی اہم علامت سمجھا جارہا ہے۔ توقع ہے کہ یہ پل تجارت میں اضافے میں مدد دے گا اور اس کے ذریعے چوبیس گھنٹے دونوں سمتوں میں آمدورفت ممکن ہوگی۔ اس میں کنٹینروں اور بھاری مال بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت بھی شامل ہوگی۔

کم جونگ اُن کے دورے کے دوران چین کے سرحدی علاقوں میں سخت ٹریفک پابندیوں اور ہوٹلوں کی بکنگ محدود کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نے نام ظاہر نہ کرنے والے سفارتی ذرائع کے حوالے سے یہ تفصیلات دی ہیں۔

روس سے قربت کے بعد چین سے تعلقات پر توجہ

شمالی کوریا نے حالیہ عرصے میں روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ کم جونگ اُن نے یوکرین جنگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت کے لیے ہزاروں فوجی اور روایتی ہتھیار فراہم کیے۔ اس کے بدلے شمالی کوریا کو ممکنہ طور پر فوجی اور اقتصادی مدد حاصل ہوئی۔

کم جونگ اُن کا یہ چھٹا دورۂ چین ہے، جب سے انہوں نے 2011 میں اقتدار سنبھالا۔ یہ دورہ 25 اکتوبر کو کوریا کی جنگ میں چین کی پہلی بڑی فتح کی سالگرہ سے قبل ہوا ہے۔ کم نے کہا کہ وہ جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں بھی چین آئے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے رواں سال جون میں پیانگ یانگ کا دورہ کیا تھا، جہاں دونوں رہنماؤں نے تجارت، زراعت، تعمیرات اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

دوسری جانب، کم جونگ اُن نے امریکہ اور جنوبی کوریا کے حوالے سے سخت موقف برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی مذاکرات بحال کرنے کی تجویز پر اب تک آمادگی ظاہر نہیں کی۔ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے گزشتہ ماہ قانون سازوں کو بتایا تھا کہ آئندہ ماہ چین کے شہر شینزن میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ٹرمپ اور کم کی ملاقات کا امکان 50 فیصد ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button