بین الاقوامیعرب دنیا

حوثیوں کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی شمولیت سے سعودی عرب کا انکار

ریاض سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں اسرائیل کی شمولیت کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ سعودی قیادت کو خدشہ ہے کہ اسرائیلی فوج کی شمولیت سے مملکت میں عوامی ردعمل پیدا ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب سے رابطہ کیا تھا اور حوثیوں کے خلاف جاری سعودی مہم میں اسرائیل کو شامل ہونے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں اسرائیلی بمباری کی سرگرمیوں میں کمی آنے کے بعد خطے میں کشیدگی کے ایک نئے محاذ کے امکانات پر بات کی جارہی ہے۔

اسرائیل کو امید تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون سے علاقائی تعلقات مضبوط ہوں گے اور مستقبل میں سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کی راہ ہموار ہوسکے گی۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تاحال باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کو ابراہیم معاہدوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی ہے، تاہم ریاض کا مؤقف رہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی مسئلے کا حل اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔

نیتن یاہو نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔

حوثیوں کے حملوں سے فضائی سفر متاثر

سعودی حکام نے اسرائیلی تجویز کو مسترد کیے جانے کے معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ پیش رفت حوثیوں کے مسلسل حملوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جن کے باعث سعودی عرب کے فضائی شعبے کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش میں ہفتہ تک توسیع کی گئی اور مختلف فضائی کمپنیوں نے پروازیں منسوخ کیں۔

محمد بن سلمان سعودی عرب کے ولی عہد ہونے کے ساتھ وزیر اعظم بھی ہیں۔ ان کی منظوری کے بغیر نیتن یاہو کی حکومت کے لیے اس جنگ میں شامل ہونے کی اجازت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

ہاریتز کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2023 کے موسم خزاں میں سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ دوسری جانب، واشنگٹن پوسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے سے پہلے نیتن یاہو کو اس کے منصوبے سے خبردار کیا تھا، تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مبینہ طور پر اس انتباہ پر کارروائی نہیں کی۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button