دیوالی کے بعد 2000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ چارجز نافذ ہوں گے
یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرنے والے تاجروں پر عائد ہونے والے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) کے نفاذ کو دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پہلے یہ چارجز 15 اکتوبر سے نافذ ہونے والے تھے، تاہم تہوار کے موسم میں خریداری اور صارفین کے اخراجات میں اضافے کو دیکھتے ہوئے تاریخ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے منگل، 13 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ یو پی آئی اور خدمات کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے منتخب تاجر سے صارفین کو کی جانے والی ادائیگیوں پر ایم ڈی آر کو دیوالی کے فوراً بعد نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ستمبر میں یو پی آئی اسٹیئرنگ کمیٹی نے 2000 روپے سے زیادہ کے منتخب لین دین پر ایم ڈی آر کی شرح 0.4 فیصد مقرر کی تھی۔ اس حساب سے 2000 روپے کی ادائیگی پر 8 روپے اور 10,000 روپے کی ادائیگی پر 40 روپے چارج بنتا ہے۔ تاہم، ریلوے، ٹیلی کام، بیمہ، ایندھن اور زرعی اشیا جیسے مخصوص شعبوں میں 2000 روپے سے زیادہ کی ادائیگیوں پر 5 روپے کی مقررہ فیس عائد ہوگی۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کا مقصد کیا ہے؟
مرکزی حکومت کے مطابق، اس فیس سے یو پی آئی نظام کو چلانے کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔ اس میں نظام کی مضبوطی، سائبر سکیورٹی، دھوکہ دہی کی روک تھام اور صارفین کی مدد جیسے امور شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ چارج صارفین کے بجائے تاجروں کو ادا کرنا ہوگا۔ 75,000 روپے یا اس سے زیادہ کے لین دین پر فیس کی حد 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔ افراد کے درمیان رقم کی منتقلی اور روزمرہ کی بیشتر تاجر ادائیگیاں بدستور مفت رہیں گی۔
روپیا پیسا ڈاٹ کام کے بانی اور منیجنگ ڈائریکٹر مکیش پانڈے کے مطابق، نئی فیس چھوٹی دکانوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر انحصار کرنے والے کاروباروں کے اخراجات بڑھا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چارجز زیادہ ہوئے تو کچھ تاجر یو پی آئی قبول کرنے سے گریز کرسکتے ہیں یا اضافی خرچ اشیا کی قیمتوں میں شامل کرسکتے ہیں۔
موس یوٹیلٹی لمیٹڈ کے گروپ چیف ایگزیکٹیو آفیسر آتش شیلار نے کہا کہ یو پی آئی روزمرہ کاروبار کا اہم حصہ بن چکا ہے، اس لیے چارجز سے متعلق کسی بھی الجھن کا اثر صارفین کے تجربے پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، نفاذ سے پہلے ملنے والے اضافی وقت کو تیاری کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں خلل نہ پڑے۔



