گیانیش کمار کے خلاف سپریم کورٹ جائے گا انڈیا اتحاد، راہل گاندھی کا اعلان
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اتحاد پیر کو سہ پہر 3 بجے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں اور ووٹ چوری کے الزامات پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا۔
اندرا بھون میں پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انڈیا اتحاد کا احتجاج آئین کے تحفظ کے لیے ہے اور اس کا مقصد کسی ایک سیاسی رہنما کے خلاف لڑائی نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں شامل ہوں اور آئین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کریں۔
راہل گاندھی کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب مارچ دوپہر ڈیڑھ بجے بارکھمبا جنکشن سے شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے وہ افراد بھی مارچ میں شامل ہوسکتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے آئین کو خطرہ لاحق ہے۔
مودی حکومت کے 200 افسران سے رابطے کا دعویٰ
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی حکومت کے 200 افسران اپوزیشن کے رابطے میں ہیں اور انہیں معلومات فراہم کررہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکاروں میں سے تقریباً نصف ان کے احتجاج کی حمایت کررہے ہیں۔ راہل گاندھی نے پولیس، انڈو تبتین بارڈر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کی ضرورت ہے۔
انتخابی فہرستوں پر تنازع
انڈیا اتحاد نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کا اعلان خصوصی جامع نظرثانی کے عمل کے دوران انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس عمل پر سوال اٹھا رہی ہیں اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ کررہی ہیں۔
دہلی ٹریفک پولیس نے اتوار کی رات ٹریفک سے متعلق ہدایت جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ نئی دہلی اور وسطی دہلی کے مختلف علاقوں میں پیر کی صبح 6 بجے سے حالات کے مطابق راستوں میں تبدیلی اور پابندیاں نافذ کی جاسکتی ہیں۔
راہل گاندھی نے پولیس کی بھاری تعیناتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنی زیادہ پولیس تعینات کی جائے گی، حکومت اتنی ہی مشکلات میں گھرے گی۔



