ابھجیت ڈپکے کا دہلی پولیس کو چیلنج، حراست کی مکمل ویڈیو جاری کرنے کا مطالبہ
نئی دہلی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت ڈپکے نے دہلی پولیس پر حراست کی ویڈیو میں ترمیم کرکے اسے جاری کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کو چیلنج کیا کہ اگر ویڈیو درست ہے تو اس کی مکمل اور غیر ترمیم شدہ ریکارڈنگ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ ڈپکے کا دعویٰ ہے کہ حراست کے دوران انہیں اپنے وکیل اور اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ڈپکے اپنی دادی کے انتقال کے بعد اہل خانہ سے ملاقات کے معاملے پر پولیس کے رویے پر سوالات اٹھانے لگے۔ ان کی دادی کا انتقال 10 اکتوبر کو ہوا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپکے نے کہا کہ پولیس یہ بتائے کہ ویڈیو کا وہ حصہ کیوں جاری نہیں کیا گیا جس میں وہ بار بار اپنے کزن سے بات کرنے، دو منٹ کے لیے اپنا فون حاصل کرنے اور وکیل سے رابطہ کرنے کی درخواست کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ حراست یا گرفتاری کے بعد وکیل سے رابطے کا حق قانونی اہمیت رکھتا ہے اور مکمل ویڈیو جاری ہونے سے لوگوں کو واقعے کی حقیقت سمجھنے میں مدد ملے گی۔
دہلی پولیس نے ویڈیو جاری کی
دہلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ڈپکے کو اپنی دادی کے انتقال کی خبر سننے کے بعد سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں پانی پیش کیا، جسے انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ اہلکاروں نے ان سے آخری رسومات میں شرکت کے بارے میں بھی پوچھا اور انتظامات میں مدد کی پیشکش کی، تاہم ویڈیو میں انہیں اس پیشکش سے انکار کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
پولیس کے دعوے پر ڈپکے کا ردعمل
دہلی پولیس کی ڈپٹی کمشنر نیہا یادو نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دادی کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد اہلکاروں نے ڈپکے کو اس افسوس ناک خبر سے آگاہ کیا اور پروازوں، فون کالز سمیت ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق اہلکاروں نے ڈپکے سے والدین سے بات کرنے کے لیے بھی بار بار کہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا۔
تاہم ڈپکے نے پولیس کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں، ان کے والدین اور وکلا کو یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس تھانے یا مقام پر رکھا گیا ہے۔
ڈپکے نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس نے 11 اکتوبر کی صبح ساڑھے تین بجے انہیں والدین سے بات کرنے کے لیے کہا، جس سے ان کے اہل خانہ کو مزید ذہنی پریشانی ہوسکتی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس اہل خانہ سے رابطے کی پیشکش کررہی تھی تو اس نے خود ان کے اہل خانہ کو ان کی حراست کے مقام کے بارے میں اطلاع کیوں نہیں دی۔
ابھی تک فراہم کردہ معلومات میں ڈپکے کے مکمل ویڈیو جاری کرنے کے مطالبے پر دہلی پولیس کا کوئی تازہ جواب شامل نہیں ہے۔ دونوں جانب کے بیانات کے تناظر میں ویڈیو کی مکمل ریکارڈنگ اور دیگر شواہد اس تنازع کی حقیقت جاننے کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔



