علاقائی خبریںقومی

دہلی میں سی جے پی کے احتجاج سے قبل سخت پابندیاں، رہنما اور صحافی زیرِ حراست

دہلی میں جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کیے ہیں، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ہفتہ، ۱۰ اکتوبر کو ’’جنتر منتر ۲.۰‘‘ تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے اور انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے ساتھ الیکشن کمیشن آف انڈیا میں بنیادی اصلاحات چاہتی ہے۔

احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو کے ۴۵ اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے جمعہ کی رات سے بند کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تعیناتی اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے پر بھی سیاسی رہنماؤں نے تشویش ظاہر کی۔

سی جے پی رہنما کو حراست میں لینے کا دعویٰ

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ترجمان انیش گوانڈے نے کہا کہ وہ اسی پرواز میں سوار تھے جس میں سی جے پی رہنما دیپکے موجود تھے۔ ان کے مطابق پولیس اہلکار طیارے میں داخل ہوئے اور دیپکے کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس نوجوانوں کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں کرے گی اور طاقت کا غیر ضروری استعمال نہیں کیا جائے گا۔ گوانڈے نے کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ دیپکے کو ہوائی اڈے سے باہر لے جایا گیا ہے یا وہ اب بھی وہیں ہیں۔

سی جے پی کی پالیسی سربراہ مہر پسرچّا نے بھی دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔ ان کے مطابق ان کی گاڑی کو کئی پولیس اہلکاروں نے گھیر لیا اور حکام نے امن و امان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھ گچھ کے لیے لے جانے کی بات کہی۔

صحافیوں کی حراست پر بھی تشویش

احتجاج کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے خلاف کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ نیوز لانڈری نے بتایا کہ اس کے تین صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے سرکاری ادارہ جاتی فون ضبط کرلیے گئے۔ بعض صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ پریس انفارمیشن بیورو کی منظوری نہ رکھنے والے صحافیوں کو آگے جانے سے روکا گیا اور ان کے شناختی کارڈوں کی تصدیق کے نام پر پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔

اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھیاں استعمال کیں۔ تنظیم نے اسے شہریوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی اپیل کی۔

سیاسی رہنماؤں اور وکلا کی مذمت

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے کہا کہ اختلافِ رائے جرم نہیں ہے۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کا موازنہ ایمرجنسی کے دور سے کیا۔

کانگریس رہنما ششی تھرور نے بھی دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور مبینہ حراستوں پر سوال اٹھائے۔ بمبئی لائرز ایسوسی ایشن نے پابندیوں کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے انہیں غیر آئینی اور غیر قانونی بتایا اور فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا، احتجاج سے قبل سڑکوں پر کچرا ڈالے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے۔ تاہم، ان الزامات اور کارروائیوں سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button