83 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ بھی ناکافی حوثی حملوں کے سامنے سعودی عرب کو مشکلات کیوں
سعودی عرب دنیا کے جدید ہتھیاروں سے لیس ممالک میں شامل ہے، تاہم یمن کے حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں نے اس کے فضائی دفاع اور اہم تنصیبات کی سلامتی سے متعلق سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ سعودی عرب نے 2025 میں اپنے مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً 6.5 فیصد، یعنی لگ بھگ 83 ارب ڈالر، دفاع پر خرچ کیا تھا۔ اس کے باوجود حالیہ حملوں نے ملک کے دفاعی نظام کو درپیش چیلنجوں کو نمایاں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہفتہ، 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد سفارتی مشنوں نے اپنے شہریوں کو ایئرپورٹ اور اطراف کے علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان جنگ بندی اس سال ختم ہوگئی۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اہم مقامات پر قبضہ کیا، جس کے بعد سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت میں اپنی فوجی کارروائیاں تیز کردیں۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی عرب کے تیل اور سیاحت سے متعلق اہم مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
سعودی عرب کے جدید ہتھیار اور دفاعی چیلنج
سعودی عرب کے دفاعی نظام میں امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے، یورو فائٹر ٹائفون، پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام سمیت جدید ہتھیار شامل ہیں۔ ملک نے امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں سے بڑے پیمانے پر دفاعی سازوسامان خریدا ہے، کیونکہ اس کی اپنی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت محدود ہے۔
دوسری جانب حوثیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضے کے بعد اپنے میزائل اور ڈرون نظام کو بہتر بنایا ہے۔ ان کے بعض ہتھیار تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور اسرائیل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ سعودی ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات بھی ان کے حملوں کا ہدف رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثی مختلف رفتار کے ڈرون اور میزائل بیک وقت استعمال کرتے ہیں، جس سے فضائی دفاعی نظام کے لیے تمام خطرات کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ان کے ہتھیاروں میں فلسطین-2 اور طوفان جیسے میزائلوں کے علاوہ برکان اور بدر سلسلے کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض ہتھیاروں کے ایرانی ساخت یا ٹیکنالوجی سے تعلق کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
حملے سعودی عرب کے لیے باعث تشویش کیوں؟
ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کا مقصد سعودی عرب کو سیاحت، بین الاقوامی کاروبار اور عالمی تقریبات کا اہم مرکز بنانا ہے۔ اسی تناظر میں ریاض کا ایئرپورٹ ملک کی معاشی اور سفارتی سرگرمیوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔
حملے کے وقت ریاض میں بین الاقوامی تقریبات کا موسم بھی شروع ہورہا تھا، جبکہ عالمی توانائی کانگریس اتوار کو منعقد ہوئی۔ مسلسل حملوں اور سفری انتباہات نے شہری ہوابازی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔



