ایلون مسک کا اسٹارلنک کے لیے دباؤ تیز، کہا بھارت میں مقابلے سے عام شہریوں کو فائدہ ہوگا
اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے تجارتی آغاز کے لیے ایک بار پھر آواز اٹھائی ہے۔ اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے سے عام صارفین کو زیادہ اختیارات ملیں گے۔ اس دوران انہوں نے ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کے حامیوں پر بھی تنقید کی اور ان کے دلائل کو ’’مبالغہ آرائی اور بے بنیاد منافقت‘‘ قرار دیا۔
مسک گزشتہ کئی دنوں سے امبانی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ریلائنس بھارت کے ٹیلی کام شعبے کی اہم کمپنیوں میں شامل ہے، جبکہ اسٹارلنک ملک میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسک نے قیمتوں اور مقابلے پر کیا کہا؟
ایکس پر اپنی پوسٹ میں مسک نے دلیل دی کہ اسٹارلنک کی آمد سے بھارتی صارفین کو انٹرنیٹ خدمات کے انتخاب میں مزید آزادی ملے گی۔ ان کے مطابق، مقابلہ بڑھنے سے امبانی کے منافع میں کمی آسکتی ہے، لیکن اس سے ان کے کاروبار کو کوئی وجودی خطرہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسٹارلنک کی خدمات بھارتی صارفین کے لیے بہت مہنگی ہوئیں تو لوگ انہیں نہیں خریدیں گے۔ ایسی صورت میں کمپنی کو اپنی قیمتیں صارفین کی استطاعت کے مطابق رکھنی ہوں گی۔
مسک نے اسٹارلنک کے مقابلے سے متعلق متضاد دلائل پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق، ایک طرف کہا جاتا ہے کہ اسٹارلنک بھارت میں پہلے سے دستیاب کم قیمت انٹرنیٹ خدمات کا مقابلہ نہیں کرسکتی، جبکہ دوسری طرف اسے بہت طاقتور حریف قرار دیا جاتا ہے۔
امبانی سے متعلق رپورٹس بھی شیئر کیں
۲۰۲۲ کی ایک رپورٹ اور انڈین ایکسپریس کی ۲۰۲۴ کی رپورٹ شامل تھی۔ مؤخرالذکر رپورٹ کے مطابق، ریلائنس سے منسلک کمپنی کوئک سپلائی نے انتخابی بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو ۳۸۵ کروڑ روپے اور شیوسینا کو ۲۵ کروڑ روپے عطیہ دیے تھے۔ ریلائنس نے ان الزامات پر عوامی طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
حکومت نے الزامات مسترد کردیے
مرکزی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ بھارت میں بعض طاقتور کاروباری شخصیات اسٹارلنک کی آمد روک رہی ہیں۔ وزارت مواصلات کے مطابق، سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے ملک کا منظوری کا نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے۔
وزارت نے اس الزام کو بھی بے بنیاد قرار دیا کہ قواعد یا ان کے نفاذ کے ذریعے کسی مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ اس طرح بھارت میں اسٹارلنک کے آغاز، ضابطہ جاتی منظوری اور ٹیلی کام مارکیٹ میں مسابقت کا معاملہ بدستور موضوعِ بحث ہے۔



