بین الاقوامیعرب دنیا

ایلون مسک کی امبانی پر یلغار، بی جے پی کو عطیات کی رپورٹس شیئر

امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے بھارتی صنعت کار مکیش امبانی پر تنقید کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایسی میڈیا رپورٹس کے اسکرین شاٹس شیئر کیے ہیں جن میں ریلائنس سے منسلک اداروں کے بی جے پی کی انتخابی مہمات اور سیاسی عطیات سے مبینہ تعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ بھارت میں مسک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے آغاز میں تاخیر پر جاری تنازع کے درمیان سامنے آیا ہے۔

ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مسک کی جانب سے شیئر کی گئی رپورٹس میں الجزیرہ کی ۲۰۲۲ کی ایک رپورٹ شامل تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریلائنس کی مالی معاونت سے چلنے والی ایک کمپنی فیس بک پر بی جے پی کی انتخابی مہمات کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے انڈین ایکسپریس کی ۲۰۲۴ کی ایک محفوظ شدہ رپورٹ بھی شیئر کی، جس میں ریلائنس سے منسلک کمپنی کوئک سپلائی کی جانب سے انتخابی بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو ۳۸۵ کروڑ روپے اور شیوسینا کو ۲۵ کروڑ روپے عطیہ دینے کا ذکر تھا۔ ان الزامات پر ریلائنس کی جانب سے کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسٹارلنک کی منظوری پر تنازع

مسک نے اس سے قبل مکیش امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں انہیں ’’وزیر اعظم امبانی‘‘ کہا اور الزام لگایا کہ طاقتور کاروباری مفادات بھارت میں اسٹارلنک کی خدمات کو روک کر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امبانی سے سوال کیا کہ کیا وہ بھارتی مارکیٹ میں اسٹارلنک کو مقابلہ کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ہوں گے۔

مسک کا کہنا ہے کہ بھارت کے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں، جس سے بچوں کی تعلیم اور چھوٹے کاروباروں کے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اسٹارلنک ان حالات میں بہتری لاسکتا ہے۔

حکومت کا موقف

مرکزی وزیر مواصلات جیوتیرادتیہ سندھیا نے کہا ہے کہ بھارت کسی بھی شعبے میں اجارہ داری کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کے مطابق اسٹارلنک، ریلائنس جیو کے سیٹلائٹ منصوبے جیو سیٹ کام اور بھارتی کی حمایت یافتہ یوٹلس ون ویب کو سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات کے لائسنس مل چکے ہیں۔ یہ کمپنیاں مقررہ حفاظتی شرائط پوری کرنے کے بعد خدمات شروع کرسکتی ہیں۔

وزیر کے مطابق سیٹلائٹ اسپیکٹرم کی قیمتوں کے تعین پر ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا اور محکمہ مواصلات کے درمیان کام جاری ہے۔

دہلی میں منعقدہ انڈیا موبائل کانگریس کے دوران آکاش امبانی نے سیٹلائٹ مواصلاتی خدمات سے متعلق جاری تنازع پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ کمپنی بھارتی صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button