امریکی عوام کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ ٹیرف پر بضد، وسط مدتی انتخابات سے پہلے بڑھا سیاسی دباؤ
واشنگٹن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تجارتی محصولات کی پالیسی پر تنقید اور عوامی مخالفت کے باوجود اپنا موقف برقرار رکھا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ کے 64 فیصد سے زائد بالغ شہریوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے حالیہ درآمدی محصولات میں حد سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ جنوری میں ایسے شہریوں کی شرح 58 فیصد تھی۔ یہ صورتحال 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی چیلنج بن سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد ممالک سے امریکہ آنے والی اشیا پر محصولات عائد کیے ہیں۔ ان شرحوں میں قانونی رکاوٹوں اور صدر کی جانب سے پالیسی میں تبدیلیوں کے باعث اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔
گزشتہ سال ٹرمپ نے درجنوں ممالک پر اضافی محصولات عائد کرتے ہوئے انہیں باہمی محصولات قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 1977 کے ایک قانون کے تحت انہیں معاشی ہنگامی صورت حال میں کانگریس کی منظوری کے بغیر کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم، فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اس اقدام کو مسترد کیے جانے کے بعد انتظامیہ نے دوسرے تجارتی قوانین کا سہارا لیا۔
اب انتظامیہ بنیادی طور پر 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 استعمال کررہی ہے، جس کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف محصولات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین، بھارت، جاپان، کینیڈا اور میکسیکو سمیت 60 معیشتوں سے آنے والی درآمدات پر 10 سے 12.5 فیصد تک محصولات عائد کیے گئے ہیں۔
ماہرین کو امریکی صارفین پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدی محصولات سے امریکی کاروبار اور صارفین کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، بیرون ملک کی کمپنیاں اکثر محصولات کی تلافی کے لیے اپنی قیمتیں کم نہیں کرتیں، جس کے باعث امریکی درآمد کنندگان اضافی لاگت خود برداشت کرتے ہیں یا اسے صارفین تک منتقل کردیتے ہیں۔
نیویارک فیڈرل ریزرو اور ہارورڈ سے وابستہ مطالعات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محصولات کا مالی بوجھ بڑی حد تک امریکی کاروبار اور صارفین پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی سے امریکی صنعت کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز کے مطابق، فیکٹریوں کی تعمیر میں روزگار کے مواقع بڑھنے سے مستقبل میں مینوفیکچرنگ کے شعبے میں مزید ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔
تجارتی تنازعات اور امریکی معیشت
رپورٹ کے مطابق، چین کے 2001 میں عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ہونے کے بعد اگلے چار برسوں میں امریکہ میں تقریباً 30 لاکھ مینوفیکچرنگ ملازمتیں ختم ہوئیں۔ اس دوران سستی چینی مصنوعات کی آمد نے کئی امریکی کمپنیوں کے لیے مقابلہ مشکل بنادیا۔
تاہم، ماہرین کے مطابق، امریکہ کے بڑے تجارتی شراکت داروں کے محصولات کی شرحیں اکثر امریکی شرحوں کے قریب یا ان سے کم رہی ہیں۔ برسلز کے تحقیقی ادارے بروگل کے اعداد و شمار کے مطابق، تجارتی جنگ سے پہلے یورپی یونین کی اشیا پر امریکی اوسط محصول 1.47 فیصد تھا، جبکہ یورپی یونین امریکی مصنوعات پر اوسطاً 1.35 فیصد محصول عائد کرتی تھی۔
کینیڈا کے ساتھ بھی تجارتی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ آکسفورڈ اکنامکس کے تخمینوں کے مطابق، تجارتی مذاکرات میں تعطل سے پہلے کینیڈا کی امریکی درآمدات پر مؤثر محصول کی شرح تقریباً 2.4 فیصد تھی، جبکہ امریکہ کی جانب سے کینیڈین درآمدات پر یہ شرح 5 فیصد تھی۔ اب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف جوابی محصولات بڑھا رہے ہیں۔
ان حالات میں ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے معاشی اثرات اور عوامی ردعمل وسط مدتی انتخابات سے پہلے اہم موضوع بن گئے ہیں۔



