میٹا کے نئے مصنوعی ذہانت ماڈلز ’میوز ونڈر‘، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کو ٹکر دینے کا دعویٰ
سان فرانسسکو سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت کے دو نئے جدید ماڈلز میوز ونڈر اور میوز ونڈر فل متعارف کرائے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ماڈلز اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی اور اینتھروپک کے کلاڈ جیسے معروف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی سطح کی کارکردگی پیش کرتے ہیں۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مارک زکربرگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ میوز اسپارک ان کے ماڈلز کا پہلا سلسلہ تھا، جبکہ میوز ونڈر زیادہ بڑا اور جدید سلسلہ ہے، جو کمپنی کو مصنوعی ذہانت کے جدید ترین میدان میں لے آیا ہے۔
زکربرگ گزشتہ ایک سال سے اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میٹا کی کوششوں کو تیز کررہے ہیں۔ کمپنی اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کم کرنے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کی بھی کوشش کررہی ہے۔
جون 2025 میں میٹا نے سان فرانسسکو کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی اسکیل اے آئی میں 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی کے شریک بانی الیگزینڈر وانگ بھی میٹا میں شامل ہوئے، جنہیں بعد میں چیف اے آئی آفیسر مقرر کیا گیا۔ وہ کمپنی کے نئے شعبے سپر انٹیلی جنس لیبز کی نگرانی کررہے ہیں۔
نئے ماڈلز کی کارکردگی اور لاگت
میٹا نے رواں سال اپریل میں میوز اسپارک متعارف کرایا تھا، جس کے ذریعے کمپنی نے اپنے سابقہ اوپن سورس ماڈل لاما سے مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ لاما ماڈلز کارکردگی کے معاملے میں صنعت کی بعض دیگر نمایاں پیش رفت سے پیچھے رہ گئے تھے۔
میٹا کی جانب سے جاری بلاگ کے مطابق، آزاد ادارے آرٹیفیشل اینالیسس کے تقابلی نتائج میں نئے میوز ونڈر ماڈلز نے کمپنی کے سابقہ ماڈلز اسپارک کے ساتھ ساتھ اوپن اے آئی، اینتھروپک اور گوگل کے مختلف ماڈلز کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ تاہم، یہ نتائج مخصوص پیمانوں پر مبنی ہیں اور ان سے ہر کام میں برتری ثابت نہیں ہوتی۔ آرٹیفیشل اینالیسس کی ویب سائٹ کے مطابق، میوز ونڈر مہنگے ماڈلز میں بھی شامل ہے۔
یہ نئے ماڈلز جلد ہی میٹا کی ایپ میوز میں دستیاب ہوسکتے ہیں، جسے صرف معاوضہ ادا کرنے والے صارفین استعمال کرسکیں گے۔
مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری اور نئی مصنوعات
میٹا نے مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی نے جولائی میں کہا تھا کہ رواں سال مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری پر اس کے اخراجات 145 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک اس کمپنی کے دنیا بھر میں روزانہ فعال صارفین کی تعداد 3.6 ارب سے زیادہ ہے۔
کمپنی نے اگست میں میوز کوڈ متعارف کرایا، جو خودکار پروگرامنگ کے شعبے میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی مصنوعات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ستمبر میں میوز نامی ایسی ایپ بھی پیش کی گئی جو صارف کی ہدایات پر پروگرامنگ، تحقیق، خریداری اور بکنگ جیسے کام خود انجام دے سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق، میوز کو متعارف کرانے سے پہلے حفاظتی اقدامات اور سلامتی پر توجہ دینے کے لیے کئی ماہ کی تاخیر کی گئی۔ مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ کمپنی نے رفتار کے ساتھ حفاظت کو بھی اہمیت دی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں اب ایسے معاون نظام اور آلات تیار کرنے میں مصروف ہیں جو صارفین کے روزمرہ کام انجام دے سکیں۔ اوپن اے آئی، اینتھروپک، گوگل اور میٹا کے علاوہ نئی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں بھی اس شعبے میں مسابقت کو تیز کررہی ہیں۔



