ایران میں ڈوبے مال بردار جہاز سے آئی فون اور مہنگے عطر لوٹنے کے لیے ماہی گیروں کی دوڑ
ایران کے ساحلی علاقے میں آبنائے ہرمز کے قریب مال بردار جہاز ڈوبنے کے بعد سیکڑوں ماہی گیر اپنی چھوٹی کشتیوں کے ساتھ سمندر میں پہنچ گئے، جہاں وہ پانی میں ڈوبے کنٹینروں سے آئی فون، فرانسیسی عطر اور دیگر قیمتی سامان نکالنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ مال بردار جہاز جی ایف ایس پرائیڈ 14 اکتوبر کو ڈوب گیا تھا۔
واقعے کی ویڈیوز میں ماہی گیروں کو سمندر میں جزوی طور پر ڈوبے کنٹینروں کے درمیان کشتیوں پر حرکت کرتے اور پانی سے سامان کے ڈبے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک چھوٹی کشتی کو پورے مال بردار کنٹینر کو کھینچنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ایک ویڈیو میں موجود شخص نے بتایا کہ وہ آبنائے ہرمز کی جانب جا رہے ہیں، کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ایک کنٹینر بردار جہاز ڈوب گیا ہے اور اس میں آئی فون اور عطر موجود ہیں۔
جہاز ڈوبنے کی وجہ کیا تھی؟
تاہم، ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ جہاز ایک غیر مجاز اور خطرناک راستے پر داخل ہوا تھا، جہاں وہ سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد جہاز میں آگ لگی اور وہ ڈوب گیا۔
اطلاعات کے مطابق، جہاز پر 2,500 سے زیادہ کنٹینر موجود تھے۔ حکام کے درمیان جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات سے متعلق بیانات مختلف ہیں۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف تجارتی جہازوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے دوران پیش آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فروری کے اواخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد انقلابی گارڈز کی جانب سے حملوں کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، اگرچہ نسبتاً کم جہاز سمندر میں ڈوبے ہیں۔
جی ایف ایس پرائیڈ 24 گھنٹوں کے اندر ڈوبنے والا دوسرا اور جنگ شروع ہونے کے بعد تیسرا جہاز بتایا گیا ہے۔ اس سے قبل 23 ستمبر کو انٹیگوا اور باربوڈا کے پرچم بردار جہاز کیپ ڈاؤ کو ایک حملے میں نقصان پہنچنے کے بعد کھو دیا گیا تھا۔
ایرانی بحریہ نے جہازوں کو متاثرہ علاقے سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے اور مقامی ماہی گیروں کو سمندر میں تیرتے کنٹینروں کے قریب احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی فوج کی واپسی کی شرط
ایران نے جمعہ کو واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ خطے سے امریکی افواج کی واپسی سے مشروط ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فوجیں خطے میں موجود رہیں تو ایرانی افواج انہیں باہر نکال دیں گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے خطے سے نکلنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، علاقائی ممالک کی شرکت سے اجتماعی سلامتی قائم ہوگی اور عالمی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق، اگر امریکہ واپس نہیں جاتا تو ایران اسے نکالنے کی کوشش کرے گا۔
اکرمینیا نے آبنائے ہرمز کے مشرقی سمندری علاقے میں عدم تحفظ کا ذمہ دار واشنگٹن کو قرار دیا اور جہازوں کے مالکان پر زور دیا کہ وہ ایرانی مسلح افواج کے مقرر کردہ سمندری راستے کو استعمال کریں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس راستے پر سفر کرنے والے جہاز محفوظ رہیں گے۔



