ترنگا مارچ سے قبل ابھجیت ڈپکے گرفتار، پولیس سے سوال میں اکیلا ہوں، خلاف ورزی کیا کی
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت ڈپکے کو جمعہ کے روز کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں منعقد ہونے والے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ پروگرام میں شرکت کے لیے جاتے وقت دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ڈپکے نے اس پروگرام کی اپیل اشوتوش رانکا اور سورَو داس کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے لیے کی تھی۔
سی جے پی کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ڈپکے پولیس اہلکاروں سے یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ وہ اکیلے ہیں اور صرف گھر سے باہر نکلنے پر انہوں نے کس قانون یا حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’میں نے ابھی خلاف ورزی کیسے کی؟ میں اکیلا ہوں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہاں موجود دیگر افراد ذرائع ابلاغ کے نمائندے ہیں۔
ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو ڈپکے سے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ان کے خلاف احتیاطی کارروائی کی جارہی ہے۔ اس کے بعد انہیں پولیس گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے لے جایا گیا۔
پولیس نے احتجاج سے گریز کرنے کا نوٹس دیا تھا
دہلی پولیس نے جمعہ کو ڈپکے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کناٹ پلیس میں احتجاج نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ پولیس نے اس کی وجہ عوامی تحفظ، ٹریفک کی روانی اور شہریوں و تاجروں کے حقوق سے متعلق خدشات بتائے تھے۔
علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ ہیں۔ پولیس نے ڈپکے کو بتایا تھا کہ احکامات کی خلاف ورزی پر بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 223 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔
نیہا بورا بھی حراست میں
ڈپکے کے علاوہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کو بھی کچھ دیر بعد حراست میں لے لیا گیا۔ وہ اس احتجاج میں نمایاں طور پر حصہ لے رہی تھیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جنتر منتر محض ایک احتجاجی مقام نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت ہے، اور اب وسطی دہلی کا پورا علاقہ جنتر منتر بن چکا ہے۔
سی جے پی نے ’’لہرا دو ترنگا‘‘ پروگرام کی اپیل اپنے دو شریک کنوینروں اشوتوش رانکا اور سورَو داس کو عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد کی تھی۔ پولیس کی جانب سے احتیاطی کارروائی کے تحت کی گئی حراست کے معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔



