امریکی رکن کانگریس کا انتباہ: ہندوستان مخالف نفرت سے ہندو مندروں کو خطرہ
امریکہ میں الینوائے کے رکن کانگریس راجا کرشنامورتی نے اورورا کے ہندو مندر کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش کے پس منظر میں ہندوستانی نژاد امریکیوں اور جنوبی ایشیائی برادریوں کے خلاف بڑھتی نفرت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آن لائن انتہا پسندانہ بیانات نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس کے مطابق، نوراتری کے آغاز کے موقع پر ہزاروں افراد سری وینکٹیشور سوامی، المعروف بالاجی مندر، اورورا میں عبادت کے لیے جمع تھے۔ کرشنامورتی بھی اپنے خاندان کے ساتھ صبح کی عبادت کے لیے وہاں موجود تھے۔ ان کے مطابق، اسی دوران ایک 19 سالہ نوجوان پر مندر میں اجتماعی فائرنگ کی منصوبہ بندی کا شبہ تھا۔
پولیس کے مطابق، ملزم الیگزینڈروس پاپوراکس کو اس کے ایک ساتھی کی اطلاع کے بعد گرفتار کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی رائفل مبینہ طور پر جام ہوگئی، جس کے بعد وہ موقع سے فرار ہوگیا۔ تاہم، واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور الزامات کی عدالتی طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔
ہندوستانی نژاد افراد کے خلاف نفرت پر تشویش
کرشنامورتی نے کہا کہ امریکہ میں ہندوستان، ہندوستانی نژاد امریکیوں اور جنوبی ایشیائی برادریوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات تشویش ناک حد تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیکساس اور فلوریڈا سمیت مختلف ریاستوں میں ایسے بیانات سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر بعض بیانات اقلیتی برادریوں کے خلاف نفرت کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، آن لائن نفرت انگیز مہمات بعض اوقات حقیقی دنیا میں تشدد کا سبب بن سکتی ہیں۔
مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے فنڈ جاری کرنے کا مطالبہ
امریکی رکن کانگریس نے کہا کہ امریکہ میں غیر منافع بخش اداروں کی سلامتی کے لیے گرانٹ پروگرام موجود ہے، جس کے تحت مندروں، مساجد، گرجا گھروں اور یہودی عبادت گاہوں کی حفاظت بہتر بنانے میں مدد دی جاتی ہے۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ اس پروگرام کی رقم جاری کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے اور مطالبہ کیا کہ مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے فنڈ فوری طور پر جاری کیے جائیں۔
اسلحہ قوانین اور انتہا پسندی پر سوالات
کرشنامورتی نے امریکہ میں اسلحہ قوانین پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیم خودکار ہتھیاروں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود تک آسان رسائی تشدد کے واقعات کو زیادہ مہلک بنا سکتی ہے۔
پولیس کے مطابق، ملزم کی رہائش گاہ سے بغیر سیریل نمبر کی اے آر طرز کی رائفل، حفاظتی جیکٹ، آٹھ بھرے ہوئے میگزین، ایک اضافی گنجائش والا بھرا ہوا میگزین، رائفل کے 300 کارتوس اور نازی علامتوں سے متعلق اشیا برآمد کی گئیں۔
انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز اور تشدد پر اکسانے والے مواد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ ان کے مطابق، ہندوستانی نژاد امریکیوں سمیت تمام اقلیتی برادریوں کو تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے۔


