ٹرمپ کا روس پر پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ، پوتن کے ایلچی نے اسے تاریخی لمحہ قرار دیا
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خصوصی ایلچی کرل دمترییف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس پر بعض پابندیوں میں نرمی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے جانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس کے تحت روس سے متعلق بعض امریکی پابندیوں اور محصولات کو نافذ ہونے سے پہلے عارضی چھوٹ دی گئی۔
دمترییف نے ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گراہم ایکٹ کے نفاذ کو معطل کرنا ایک اہم اور حقیقی معنوں میں تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور محاذ آرائی کے بجائے مکالمے، باہمی فائدے پر مبنی تعاون اور عالمی استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لنڈسے گراہم ایکٹ کے تحت ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ اس قانون پر دستخط کیے تھے، تاہم تازہ انتظامی حکم نامے کے ذریعے بعض متعلقہ پابندیوں اور محصولات میں نرمی کی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس فیصلے کی تفصیلی وجوہات واضح نہیں کیں، البتہ حکم نامے میں قومی مفاد کو اس اقدام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی یورپی یونین کے رہنماؤں سے کیف کی جنگی کوششوں کے لیے آئندہ سال تقریباً 80 ارب ڈالر کی اضافی مالی مدد فراہم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
روس سے ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ
تاہم اس معاہدے پر امریکی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے بعض رہنماؤں نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی ضمانت نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر جاری اطلاع کے مطابق، پابندیوں میں نرمی کے فیصلے سے متعلق رپورٹ کانگریس کو بھیج دی گئی ہے۔ اس اقدام کے طویل مدتی اثرات اور روس کے خلاف امریکی پالیسی پر اس کے ممکنہ اثرات پر اب توجہ مرکوز رہے گی۔



