فرانس میں ہنگامے، لوٹ مار اور آتش زنی؛ میکرون کا امن و امان برقرار رکھنے پر زور
فرانس میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کے واقعات کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نے عوام سے امن اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر بدامنی کے دوران دو افراد کی موت ہوئی، جبکہ پولیس نے تقریباً 2,400 افراد کو گرفتار کیا۔
ایلیزی پیلس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ بے قابو تشدد کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جائز مطالبات کے لیے احتجاج کرنے والوں اور توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔
میکرون نے کہا کہ جن لوگوں نے املاک تباہ کی ہیں، انہیں اس کی قیمت چکانی ہوگی اور لوٹ مار کرنے والوں کو نقصانات کی تلافی کرنی پڑے گی۔ انہوں نے انتہا پسند بائیں بازو کے گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر پر تشدد میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
مختلف شہروں میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں کئی علاقوں کی سڑکوں پر ٹوٹے ہوئے شیشے، جلی ہوئی سائیکلیں اور ملبہ دیکھا گیا۔
وسطی فرانس کے شہر لیموژ میں مظاہرین نے 19ویں صدی کی تاریخی سٹی ہال عمارت کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں اس کی چھت گر گئی اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔
دارالحکومت پیرس میں پلیس دے لا ریپبلک کے مقام پر سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے۔ کشیدگی بڑھنے پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بعض افراد نے سائیکلوں اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
لیون میں سیاحتی دفتر کی عمارت کو آگ لگائی گئی، جبکہ قریبی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔ مارسی میں بعض مظاہرین سٹی ہال کی لابی میں داخل ہوگئے، جبکہ نقاب پوش افراد نے ایک پولیس اسٹیشن کو نقصان پہنچایا۔
پیرس، مارسی اور لیون کے میئرز نے نقصانات کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔
سخت کارروائی کا انتباہ
دوسری جانب، صدارتی انتخاب سے قبل سیاسی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین نے حکومت کو تھکا ہوا اور بدحواس قرار دیا، جبکہ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلینشوں نے خبردار کیا کہ حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
اسی دوران، مشرقی فرانس میں مظاہروں کے دوران ایک 17 سالہ لڑکی کی آنکھ ضائع ہونے کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ اس سے قبل سینٹ ایٹین میں ایک نوجوان مظاہرین کا ہاتھ ضائع ہونے کے معاملے کی بھی تحقیقات شروع ہوئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد مظاہروں کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دستی بموں اور دیگر ہتھیاروں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔



