بین الاقوامیعرب دنیا

فرانس میں احتجاج کے دوران تاریخی ٹاؤن ہال آتشزدگی سے تباہ

پیرس فرانس کے شہر لیموژ میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران تاریخی ٹاؤن ہال میں زبردست آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اسے بڑی حد تک تباہ قرار دیا گیا۔ یہ واقعہ ہفتہ کو فرانس کے مختلف شہروں میں مظاہروں، پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں اور توڑ پھوڑ کے دوران پیش آیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فرانس میں ہونے والی بدامنی کا ذمہ دار مغربی ممالک کی امیگریشن پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے امریکی شہریوں کو اس صورت حال سے سبق لینے کا مشورہ دیا۔

لیموژ کا تاریخی ٹاؤن ہال 1873 میں تعمیر کیا گیا تھا اور 1883 میں اس کا افتتاح ہوا تھا۔ یہ عمارت دونوں عالمی جنگوں کے دوران محفوظ رہی، تاہم حالیہ احتجاج کے دوران لگنے والی آگ سے اسے شدید نقصان پہنچا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، علاقے کے اعلیٰ عہدیدار نے عمارت کے بڑے حصے کے تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے تاریخی ورثے کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔ انہوں نے واقعے کو شرپسند عناصر کی دانستہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

عینی شاہدین کے مطابق، نقاب پوش مظاہرین کے ایک گروپ نے پہلے ٹاؤن ہال کے باہر پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگائی، پھر عمارت کی کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہوئے اور آگ لگا دی۔ ہفتہ کی رات فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اس دوران بڑی تعداد میں لوگ عمارت کو جلتا دیکھتے رہے۔

جے ڈی وینس کا امیگریشن پالیسیوں پر الزام

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مغربی لبرل رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنوع اور ہمدردی کے نام پر ترقی پذیر ممالک سے لوگوں کو مغربی ممالک میں لایا گیا، لیکن ان کے انضمام اور سماجی مطابقت جیسے بنیادی سوالات کو نظرانداز کیا گیا۔

وینس نے فرانس کو خوبصورت ملک قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہاں مزید تاریخی مقامات کو نقصان پہنچنے سے پہلے بدامنی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر بھی زور دیا کہ وہ فرانس کے حالات پر توجہ دیں۔

فرانس بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق، ہفتہ کو ملک بھر میں تقریباً 5.5 لاکھ افراد نے احتجاج میں شرکت کی، جبکہ مزدور تنظیم سی جی ٹی نے شرکا کی تعداد 8 لاکھ بتائی۔ اے ایف پی کے مطابق، کم از کم 1,200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پیرس سمیت متعدد شہروں میں پولیس نے نقاب پوش مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔ بعض مظاہرین نے پولیس پر اشیا اور آتش بازی کے سامان سے حملے کیے، جبکہ دارالحکومت میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

لیون میں ایک سیاحتی دفتر کو آگ لگائی گئی، جبکہ مارسی، لیل اور بوردو میں سرکاری عمارتوں اور پولیس کے ایک مرکز میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات ملیں۔ پیرس، مارسی، نیس، بوردو اور لیل میں درجنوں دکانوں کو لوٹنے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ لیل میں ایپل کے ایک اسٹور کو مکمل طور پر خالی کردیا گیا۔

اے ایف پی کے مطابق، 300 سے زائد مظاہرین نے پیرس کے معروف شانزے لیزے علاقے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جہاں بڑی لگژری دکانیں واقع ہیں۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button