ایم وی ایس آر کالج حادثہ، ریونت ریڈی کی سخت کارروائی کی ہدایت
تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع کے نادرگل میں واقع ایم وی ایس آر انجینئرنگ کالج میں ڈانڈیا پروگرام کے دوران اسٹیج کی روشنیوں کا بھاری دھاتی ڈھانچہ گرنے سے ایک طالبہ کی موت ہوگئی، جبکہ کم از کم 12 دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ ہفتہ کو کالج کے سالانہ ثقافتی و تکنیکی میلے کے دوران پیش آیا۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے طالبہ کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے اور حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق، ریونت ریڈی نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے مہلوک طالبہ کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور حادثے کی وجوہات کا پتہ لگاتے ہوئے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنے کا حکم دیا۔
یہ حادثہ کالج کے دو روزہ سالانہ پروگرام ’’سنگمَم‘‘ کے اختتامی مراحل میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس وقت کالج کے میدان میں سیکڑوں طلبہ ڈانڈیا رقص میں مصروف تھے کہ تیز ہواؤں کے دوران اسٹیج کی آرائش اور روشنیوں کے لیے نصب بھاری دھاتی ڈھانچہ اچانک گر پڑا۔ بتایا گیا کہ اس کی زد میں طالبات کا ایک گروپ آگیا۔
مہلوک طالبہ کا تعلق الیکٹریکل اینڈ الیکٹرانکس انجینئرنگ شعبے سے تھا۔ حادثہ عادل آباد نہیں بلکہ آدی بٹلا پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں واقع نادرگل علاقے میں پیش آیا۔ واقعے کے بعد پولیس کی بڑی نفری کالج پہنچی تاکہ صورت حال کو قابو میں رکھا جاسکے۔ طالب علموں اور والدین میں تشویش اور غم و غصہ پایا گیا۔
ایک سینئر پولیس عہدیدار نے ہلاکت اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈانڈیا پروگرام کے دوران روشنیوں کا ڈھانچہ گرنے سے ایک طالبہ کی موت ہوئی اور 12 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
مہلوک طالبہ کے چچا سریش نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حفاظتی انتظامات میں کوتاہی اس حادثے کی وجہ بنی۔ ان کے مطابق، انہیں شام تقریباً 7 سے 8 بجے کے درمیان فون موصول ہوا کہ کالج میں جاری ڈانڈیا پروگرام کے دوران تیز ہواؤں کے درمیان روشنیوں اور آرائش کا ایک ستون گر گیا ہے۔
حادثے کے بعد کالج میں حفاظتی انتظامات اور تقریب کے دوران بھاری ڈھانچوں کی تنصیب سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے سخت کارروائی کی ہدایت کے بعد اب حادثے کی ذمہ داری طے کرنے اور حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں کی جانچ پر توجہ مرکوز رہے گی۔



