تلنگانہ میں دھان کی سرکاری خریداری سست، باریک چاول کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
ریاستی حکومت کا 65 لاکھ ٹن دھان خریدنے اور 14 ماہ کا غذائی ذخیرہ برقرار رکھنے کا ہدف متاثر ہونے کا اندیشہ، موجودہ ذخائر ستمبر 2027 تک راشن اسکیموں کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں
تلنگانہ میں دھان کی سرکاری خریداری کی رفتار سست ہونے سے غذائی اجناس کے ذخیرے اور باریک چاول کی قیمتوں کے تعلق سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے رواں سیزن میں 65 لاکھ ٹن دھان خریدنے اور 14 ماہ کی ضروریات کے مطابق غذائی ذخیرہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاہم نجی تاجروں اور رائس ملرس کی جانب سے کسانوں سے براہ راست دھان خریدے جانے کے باعث سرکاری خریداری کا ہدف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اکتوبر کا مہینہ ختم ہونے کے قریب ہے، لیکن حکومت کی جانب سے طے کردہ 8,283 خریداری مراکز میں سے 2,000 سے بھی کم مراکز شروع ہوسکے ہیں۔ مہاراشٹر، کرناٹک اور آندھرا پردیش کے تاجر بھی مقامی خریداروں کے ساتھ دھان خرید رہے ہیں۔ باریک اقسام کے دھان کے لیے فی کوئنٹل 3,100 سے 3,700 روپے تک قیمتیں پیش کی جارہی ہیں، جو بعض علاقوں میں کم از کم امدادی قیمت سے زیادہ ہیں۔
محبوب آباد ضلع کی کیسماسمدور زرعی منڈی میں پیر کے روز جئے سری رام قسم کے دھان کی قیمت مبینہ طور پر ریکارڈ 5,016 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی۔ نلگنڈہ، کریم نگر، نظام آباد اور کھمم اضلاع میں بھی باریک دھان کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں۔
نجی خریدار کھیتوں سے تازہ دھان خرید رہے ہیں، جس سے کسانوں کو اسے خشک کرنے اور منڈی تک پہنچانے کے اخراجات سے بچنے کا موقع مل رہا ہے۔ فوری ادائیگی بھی کسانوں کو نجی خریداروں کی طرف راغب کررہی ہے۔ تاہم، اگر دھان کی زیادہ مقدار نجی تاجروں اور ملرس کے پاس چلی جاتی ہے تو بازار میں رسد کم ہونے اور خوردہ قیمتیں بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
نظام آباد میں اندازاً 12 لاکھ ٹن فصل کے مقابلے میں حکومت نے 6.5 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف رکھا ہے، لیکن عہدیداروں کو خدشہ ہے کہ سرکاری خریداری چار لاکھ ٹن تک بھی پہنچ پائے گی یا نہیں۔ نلگنڈہ میں بھی 4.5 لاکھ ٹن کے ہدف کے مقابلے میں صرف دو سے تین لاکھ ٹن خریداری متوقع ہے۔
راشن اسکیموں کے لیے ذخیرہ
تلنگانہ کو عوامی تقسیم کے نظام، فلاحی اداروں، تعلیمی اداروں اور دوپہر کے کھانے کی اسکیموں کے لیے ہر ماہ تقریباً 2.38 لاکھ ٹن باریک چاول درکار ہوتے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق، سرکاری گوداموں میں تقریباً 9.64 لاکھ ٹن چاول موجود ہیں، جبکہ رائس ملرس سے مزید 18.39 لاکھ ٹن کسٹم ملڈ چاول موصول ہونا باقی ہے۔
موجودہ ذخیرے اور زیر التوا سپلائی کو ملاکر 28.03 لاکھ ٹن چاول دستیاب ہونے کا تخمینہ ہے، جو سرکاری ضروریات کو ستمبر 2027 تک پورا کرسکتا ہے۔ تاہم، ملرس کے پاس چاول کی ترسیل میں تاخیر اور نئی فصل کی سست خریداری سے رسد متاثر ہونے کا امکان ہے۔
آئندہ یاسنگی یعنی ربیع سیزن میں صورت حال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، کیونکہ ریاستی حکومت نے کسانوں سے دھان کی کاشت نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومت کے لیے اب بڑا چیلنج سرکاری خریداری میں تیزی لانے، فلاحی اسکیموں کے لیے چاول کی فراہمی یقینی بنانے اور باریک چاول کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا ہے۔



