علاقائی خبریںقومی

تمڈی ہٹی بیراج پر تلنگانہ اور مہاراشٹر میں اہم بات چیت، ریونت ریڈی کی فڑنویس سے ملاقات

آبپاشی منصوبے کی بلندی 148 میٹر سے بڑھا کر 152 میٹر کرنے کی تجویز، قبائلی علاقوں میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے پر زور

تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے مہاراشٹر کے چیف منسٹر دیویندر فڑنویس سے ممبئی میں ملاقات کرتے ہوئے تمڈی ہٹی بیراج کی تعمیر سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس منصوبے کا مقصد تلنگانہ اور مہاراشٹر کی سرحد پر دریائے پرانہیتا کے پانی کو استعمال کرتے ہوئے آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

یہ ملاقات ممبئی کے سہیا دری اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ہوئی، جس میں تلنگانہ کے وزیر آبپاشی این اتم کمار ریڈی، دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریز اور آبپاشی محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ بات چیت میں بیراج کی مجوزہ بلندی، پانی کی دستیابی، زیر آب آنے والے علاقوں اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔

152 میٹر بلندی کی تجویز

ملاقات کے آغاز میں اتم کمار ریڈی نے سابق ضلع عادل آباد کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی صورت حال کے ساتھ وہاں کی معاشی پسماندگی پر تفصیلی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے قبائلی اور آدیواسی طبقات طویل عرصے سے ترقیاتی مواقع، آبپاشی اور پینے کے پانی کی سہولتوں کے منتظر ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ اس خطے میں آبپاشی کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں 6 اکتوبر 1975 سے جاری ہیں، تاہم پانچ دہائیوں کے دوران مختلف اقدامات اور مذاکرات کے باوجود لوگوں کی ضروریات پوری نہیں ہوسکیں۔ ان کے مطابق، 2016 کے معاہدے میں تجویز کردہ 148 میٹر کی بلندی علاقے کی آبپاشی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوگی۔

اتم کمار ریڈی نے توانائی کے اخراجات، ماحولیاتی خدشات، موسمیاتی تبدیلی اور منصوبے کی طویل مدتی پائیداری کا حوالہ دیتے ہوئے 152 میٹر بلندی پر بیراج کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح پانی کی ترسیل میں کششِ ثقل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ حکومت نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ بیراج کے باعث مہاراشٹر میں زیر آب آنے والی زرعی زمین کے لیے وہاں کے نافذ قوانین اور معاوضے کی پالیسیوں کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔

قبائلی علاقوں کی ترقی پر زور

ریونت ریڈی نے تلنگانہ اور مہاراشٹر کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سماجی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمڈی ہٹی بیراج محض آبپاشی منصوبہ نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کی سماجی اور معاشی ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ انہوں نے قبائلی رہنما کومرم بھیم کی ’’جل، جنگل، زمین‘‘ تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے پانی کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔

چیف منسٹر نے عادل آباد میں مجوزہ دفاعی اور شہری ہوائی اڈے کی سہولتوں کو بھی علاقے کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، بیراج دونوں ریاستوں کے سرحدی علاقوں کے درمیان رابطے اور معاشی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر حکومت سے دوستی اور باہمی تعاون کی بنیاد پر منصوبے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button