کیا اے آئی کا بلبلہ پھٹنے والا ہے نکھل کامتھ نے آنے والے مہینوں میں مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا
مصنوعی ذہانت میں سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری، مگر آمدنی صرف 100 سے 200 ارب ڈالر؛ سرمایہ کاری اور آمدنی کے درمیان بڑے فرق پر تشویش
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری کے باوجود اس سے ہونے والی آمدنی میں اتنا اضافہ نہیں ہوا ہے۔ سرمایہ کار اور کاروباری شخصیت نکھل کامتھ نے خبردار کیا ہے کہ سرمایہ کاری اور آمدنی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق آنے والے مہینوں میں اے آئی صنعت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
ورلڈ سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کامتھ نے کہا کہ اے آئی کے شعبے میں ہر سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے، جبکہ کاروباری اداروں میں اے آئی کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ صرف 100 سے 200 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری اور آمدنی کے درمیان سالانہ تقریباً 700 سے 800 ارب ڈالر کا فرق ہوسکتا ہے۔
کامتھ نے کہا کہ امریکہ میں اے آئی کے شعبے میں مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی جانب سے پہلے ہی بڑی رقم لگائی جاچکی ہے۔ تاہم، انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ صنعت ہر سال اتنی ہی بڑی نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے قابل رہے گی یا نہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی معیشت کا حجم تقریباً 100 سے 120 ٹریلین ڈالر ہے، جس میں خدمات کا شعبہ تقریباً نصف سے 60 فیصد تک حصہ رکھتا ہے۔ اگر اے آئی اس شعبے کے 10 فیصد حصے کو متاثر کرتی ہے تو اس سے پیداواری صلاحیت میں 6 سے 7 ٹریلین ڈالر تک کے فوائد حاصل ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔
تاہم، کامتھ نے کہا کہ انہیں اب تک عملی سطح پر ان متوقع فوائد کے واضح آثار نظر نہیں آئے ہیں۔
انہوں نے آئندہ سال سرمایہ حاصل کرنے کی لاگت بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔ ان کے مطابق امریکی ٹریژری بانڈز پر شرح سود 5، 6 یا حتیٰ کہ 7 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جس سے اے آئی کمپنیوں کے لیے درکار سرمایہ حاصل کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
کامتھ کے مطابق اے آئی صنعت کو سرمایہ کاری اور متوقع آمدنی کے درمیان فرق پورا کرنے کے لیے ایسے سرمایہ کاروں یا ذرائع کی ضرورت ہوگی جو اس خلا کو پُر کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال سرمایہ اکٹھا کرنا گزشتہ سال یا رواں سال کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔



