تلنگانہ میں ووٹر لسٹ سے خارج ناموں کی دوبارہ شمولیت آسان نہیں، سخت جانچ ہوگی
تلنگانہ میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے افراد کے لیے دوبارہ نام درج کروانا آسان نہیں ہوگا۔ انتخابی فہرست میں نئے اندراج کے خواہش مند 25 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کی درخواستوں کی تفصیلی جانچ کی جائے گی، جس میں دستاویزات کی تصدیق، رہائش کی جانچ اور نام خارج ہونے کی وجوہات کا جائزہ بھی شامل ہوگا۔ ریاست کی حتمی انتخابی فہرست 9 نومبر کو شائع کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے قواعد کے مطابق، جن ریاستوں میں ایس آئی آر کا عمل جاری ہے، وہاں ووٹر لسٹ میں نام درج کروانے کے خواہش مند افراد کو ایک اعلانیہ جمع کرنا ہوتا ہے۔ اس میں جائے پیدائش، رہائشی پتے اور متعلقہ مقام پر قیام کی مدت کی تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہے۔
درخواست گزار کو یہ بھی اعلان کرنا ہوتا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹر کے طور پر اندراج کروا رہا ہے اور اس کا نام کسی بھی اسمبلی یا پارلیمانی حلقے کی انتخابی فہرست میں پہلے سے شامل نہیں ہے۔ غلط معلومات فراہم کرنے پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ تاہم، ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے کے بعد یہ اعلانیہ لازمی نہیں رہتا۔
25 سال سے زائد عمر کے درخواست گزاروں کی جانچ
تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے ذرائع کے مطابق، ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے ضوابط سخت کردیے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر درخواست گزار مناسب دستاویزات پیش کرتا ہے اور مقررہ شرائط پوری کرتا ہے تو اس کا نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
کروڑوں ووٹروں کی تفصیلات کی جانچ
ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے تلنگانہ میں مجموعی طور پر 3,38,26,448 ووٹرز تھے۔ ان میں سے 2,64,87,213 افراد نے اندراجی فارم جمع کروائے۔ غیر حاضر، منتقل ہوچکے، فوت شدہ اور دوہرے اندراج والے ووٹروں کو مسودہ انتخابی فہرست سے خارج کیا گیا۔
اب تک منطقی تضادات اور 2002 کی ایس آئی آر سے متعلق نقشہ بندی کی تفصیلات موجود نہ ہونے کی بنیاد پر 92,88,188 ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ہفتہ تک ان میں سے 92,73,749 نوٹس پہنچا دیے گئے تھے، جبکہ 14,439 نوٹس کی ترسیل باقی تھی۔
حکام کے مطابق، 91,09,213 نوٹس کے سلسلے میں سماعت مکمل ہوچکی ہے۔ ہفتہ تک مجموعی طور پر 2,55,07,734 ووٹروں کے نام حتمی فہرست میں شامل کرنے کے لیے نشان زد کیے گئے، جن میں 86,81,351 افراد ایسے ہیں جن کی سماعت مکمل ہوچکی ہے۔
اب تک 39,242 افراد کو حتمی انتخابی فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ نوٹس جاری کرنے اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کا عمل 5 نومبر کو مکمل ہوگا، جبکہ حتمی فہرست 9 نومبر کو جاری کی جائے گی۔



