بین الاقوامیعرب دنیا

فرانس میں بدامنی پر ٹرمپ کا سخت بیان، کہا تارکین وطن کی وجہ سے ملک جل رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری احتجاج اور بدامنی کو امیگریشن پالیسی سے جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فرانس نے ایسے لوگوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں جو اس ملک سے نفرت کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فرانس میں پولیس کو اپنا کام کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔

ٹرمپ نے ہفتہ کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر پیری میں ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں موجودہ حالات اس بات کی مثال ہیں کہ ایسے افراد کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے جو اس ملک اور اس کے عوام سے نفرت کرتے ہوں۔

انہوں نے امریکی سینیٹر جان اوسوف کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ایسے لاکھوں تارکین وطن کو امریکہ لانا چاہتے ہیں جو امریکی معاشرے کو نقصان پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دے گی۔

امریکی امیگریشن پالیسی کا حوالہ

فرانس کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے امریکہ کی امیگریشن پالیسی کا دفاع کیا۔ ان کے بیان کے مطابق، ان کی انتظامیہ نے ملک میں داخلے اور ویزا سے متعلق اقدامات سخت کیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں۔ گزشتہ ماہ انتظامیہ نے آٹھ کمپنیوں سے متعلق بعض گرین کارڈ درخواستوں کا عمل بھی روک دیا تھا، جن میں ہندوستانی کمپنیاں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز اور انفوسس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، نو معروف یونیورسٹیوں کے خلاف مبینہ دھوکہ دہی اور امریکی ملازمتوں پر اثرات سے متعلق تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔

فرانس میں مہنگائی اور تعلیمی اخراجات پر احتجاج

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تعلیم کے لیے فنڈز کی کمی کے خلاف مختلف شہروں میں مظاہرے جاری ہیں۔ ابتدا میں احتجاج بڑی حد تک پُرامن تھے، تاہم ہفتہ کی رات پیرس میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔

امن و امان بحال کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ حکام نے حالیہ تشدد کے دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے۔

پیرس کے علاوہ لیون، لِل، مارسی، مون پلیے، نانت اور تولوز سمیت کئی بڑے شہروں میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

فرانس 24 کے حوالے سے دی گئی اطلاعات کے مطابق، فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد کی احتجاج میں شرکت کا اندازہ لگایا، جبکہ منتظمین نے شرکا کی تعداد تقریباً 8 لاکھ بتائی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق، اب تک تقریباً 100 مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں احتجاج کو تعلیمی مسائل سے جوڑنے کی تردید کی، تاہم فرانس میں مظاہروں کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی اور تعلیم کے لیے فنڈز کی کمی شامل بتائی گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button