تہران میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اہم مذاکرات، کشیدگی کم کرنے کی کوششیں
حوثیوں کے نئے حملوں کے دعوے، مصر کی سعودی عرب کو دفاعی مدد دینے کی منظوری؛ ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ حملوں کی دھمکیوں سے خطے میں تشویش
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں نے پیر کو تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر نئے حملے کرنے کا دعویٰ کیا اور مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع میں فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔
سعودی، ایرانی اور دیگر حکام کے مطابق، اگست میں مکہ کے باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے ان تینوں ممالک اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی۔ جنگ کا آغاز ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا، جس کے بعد اس کے اثرات سعودی عرب اور یمن تک پھیل گئے۔
سعودی عرب نے کہا کہ اس دورے کا مقصد مذاکرات کے راستے کھولنا اور فوجی کشیدگی کی دوبارہ شدت کو روکنا ہے۔ سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے کی، جبکہ پاکستان کی نمائندگی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کی جانب سے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے شرکت کی۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کی ملاقاتوں میں شرکت کی تصاویر جاری کیں۔ مذاکرات کے اختتام پر چاروں ممالک نے امن و سلامتی کے شعبوں میں تعاون مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
امریکہ اور ایران کی جانب سے نئے حملوں کی دھمکیاں
خطے میں جاری لڑائی کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ خلیجی ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے، جبکہ یمن میں انسانی بحران بھی شدت اختیار کرگیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب، ایرانی سکیورٹی عہدیداروں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو تہران نے خلیجی سمندر میں موجود زیر آب مواصلاتی کیبلوں کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کیے ہیں۔
مصر کی سعودی عرب کو دفاعی مدد کی منظوری
سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پیر کو سعودی عرب کی مشرقی مغربی تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ تاہم، سعودی حکام کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
مصر کی پارلیمنٹ نے پیر کو اپنی فوج کو سعودی عرب کے دفاع میں مدد فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔ مصر نے اس سے قبل مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے پر غور کرنے کا اعلان کیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق، معاہدے میں شامل ممالک نے اس ماہ ریاض میں ہنگامی اجلاس کے دوران سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے معاہدے کی منظوری دی، جبکہ ترکی کی پارلیمنٹ میں اس کی توثیق کا عمل بھی جاری ہے۔



