علاقائی خبریںقومی

سائیکلون ارنب کی تباہی، آندھرا پردیش میں 3 ہلاک اڈیشہ میں ایک لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل

سائیکلون ارنب نے آندھرا پردیش میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ تیز ہواؤں کے باعث درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور 31 مکانات کو نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق، ریاست میں تین افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ پڑوسی ریاست اڈیشہ میں تقریباً ایک لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق، سائیکلون نے بدھ کو آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلی علاقوں کو عبور کرلیا ہے۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، جبکہ جھکڑوں کی رفتار 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات نے بتایا کہ طوفان نے یانم کے جنوب مغرب میں ساحل عبور کیا۔ اس کا مرکز نرساپور سے تقریباً 20 کلومیٹر مشرق شمال مشرق، یانم سے 40 کلومیٹر جنوب مغرب اور کاکیناڈا سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔

طوفان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مرکزی اور ریاستی آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ پولیس اور سرکاری عملہ سڑکوں سے گرے ہوئے درخت اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ بجلی اور دیگر ضروری خدمات بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے عہدیداروں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کم کرنے اور جلد معمولات بحال کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں ضلع کلکٹرس سمیت تقریباً 32 ہزار اہلکاروں نے شرکت کی۔

اڈیشہ کے وزیر برائے محصولات و آفات انتظام، سریش پجاری کے مطابق، ریاست میں 313 امدادی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں اور 2,037 پناہ گاہیں تیار رکھی گئی ہیں۔ حکام جنوبی اضلاع میں شدید بارش اور تیز ہواؤں کے امکان کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔

سائیکلون کے اثرات جھارکھنڈ میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں رانچی سمیت کئی علاقوں میں بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے ریاست کے نو اضلاع کے لیے شدید بارش کی وارننگ جاری کی۔

ادھر، چنئی کے ساحلی علاقوں اینور، پٹیناپاکم اور بیسنٹ نگر میں سمندر کی بلند لہروں نے سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں پانی داخل کردیا۔ اینور میں پانچ فٹ سے زیادہ بلند لہریں حفاظتی رکاوٹیں عبور کرکے سڑکوں تک پہنچ گئیں اور وہاں کھڑی گاڑیاں بھی بہہ گئیں۔ بعد ازاں ساحلی صورتِ حال معمول پر آنے کی اطلاع دی گئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button