اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کی خوفناک ٹکر، 68 افراد ہلاک؛ کنٹرول روم کے حکم پر سوالات
اسپین میں دو تیز رفتار ٹرینوں کے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 68 افراد ہلاک اور 80 دیگر زخمی ہوگئے۔ حادثہ بدھ کی صبح دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں صوبہ تولیدو کے قریب پیش آیا، جب ایک ٹرین پٹری پر رکی ہوئی دوسری ٹرین سے ٹکرا گئی۔ حکام کے مطابق، امدادی کارکن ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔
اسپین کے ریلوے آپریٹر اے ڈی آئی ایف کے مطابق، دونوں ٹرینیں میڈرڈ سے سیویل کی سمت سفر کررہی تھیں۔ سرکاری کمپنی رینفے کی ٹرین نے نجی کمپنی ایریو کی رکی ہوئی ٹرین کے پچھلے حصے کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں دونوں ٹرینوں کے کئی ڈبے پٹری سے اتر گئے۔ دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر 544 مسافر سوار تھے، جن میں رینفے کی ٹرین میں 397 اور ایریو کی ٹرین میں 147 مسافر شامل تھے۔
اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے حادثے کے پس منظر میں ریلوے کے مرکزی کنٹرول روم کے ایک حکم کو ’’ناقابلِ فہم‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، کمپیوٹر میں خرابی کے باعث تقریباً 63 کلومیٹر طویل ریلوے حصے میں حفاظتی نظام نے کام کرنا بند کردیا تھا، جس کے بعد ٹرینوں کو روک دیا گیا۔ تاہم، مرکزی کنٹرول روم نے رینفے کی ٹرین کو دوبارہ سفر شروع کرنے کی اجازت دے دی، حالانکہ متعلقہ پٹری پر رکنے کا سگنل فعال تھا۔
وزیر کے مطابق، ٹرین کو معمول کی رفتار سے چلنے کی اجازت دینا سنگین غلطی ہوسکتی ہے۔ حکام اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار کتنی تھی، جبکہ اسے تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیر نے واضح کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جارہا۔
حادثے کے بعد میڈرڈ، سیوداد ریئل اور جنوبی علاقے اندلس کے درمیان ٹرین خدمات معطل کردی گئیں۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے ریلوے کی حفاظت بہتر بنانے اور حادثے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی۔
یہ حادثہ رواں سال اسپین میں دوسرا بڑا مہلک ریلوے حادثہ ہے۔ جنوری میں ایک اور ٹرین تصادم میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ملک میں ریلوے کی حفاظت پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔



