عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی پٹھوں کی طاقت کم ہونے کی ایک اہم وجہ سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ پٹھے اپنی طاقت میں کمی کے باوجود خلیات کو نقصان سے بچانے کے لیے ایک حفاظتی طریقۂ کار اختیار کرسکتے ہیں۔ تحقیق میں ایک اہم مالیکیول کارڈیولیپن کا کردار سامنے آیا ہے، جس کی سطح بحال کرنے سے چوہوں میں پٹھوں کے ضیاع کی علامات کم ہوئیں اور قبل از وقت اموات بھی رک گئیں۔ تاہم، انسانوں میں اس طریقۂ علاج کی افادیت ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر ایجنگ میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پٹھوں میں دو اہم اقسام کے ریشے پائے جاتے ہیں۔ تیز رفتار ریشے زیادہ طاقت پیدا کرتے ہیں، لیکن جلد تھک جاتے ہیں، جبکہ سست رفتار ریشے طویل سرگرمی میں مدد دیتے ہیں اور توانائی پیدا کرنے والے مائٹوکانڈریا پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
عمر بڑھنے کے ساتھ مائٹوکانڈریا کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود پٹھوں میں سست رفتار ریشوں کا تناسب بڑھنے لگتا ہے۔ سائنس دانوں نے تحقیق کے ذریعے اس بظاہر متضاد تبدیلی کی ممکنہ وجہ معلوم کی ہے۔
کارڈیولیپن کی کمی کا کیا اثر ہوتا ہے؟
کارڈیولیپن ایک خاص چکنائی والا مالیکیول ہے جو مائٹوکانڈریا کی اندرونی جھلی کی ساخت اور معمول کے کام کے لیے اہم ہے۔ تحقیق کے مطابق، عمر بڑھنے یا بعض بیماریوں کے دوران چوہوں اور انسانوں کے پٹھوں میں اس کی سطح کم ہوجاتی ہے۔ اس کمی سے مائٹوکانڈریا کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے اور خلیات میں نقصان دہ کیمیائی عوامل بڑھ سکتے ہیں۔
محققین نے کم عمر چوہوں میں کارڈیولیپن کی سطح کم کرکے اس کے اثرات کا جائزہ لیا۔ ان کے پٹھوں میں تیز رفتار ریشوں کی جگہ سست رفتار ریشوں کا تناسب بڑھ گیا، جو عمر رسیدہ پٹھوں میں دیکھی جانے والی تبدیلی سے مشابہ تھا۔ مزید تجربات میں کارڈیولیپن کی سطح معمول کے تقریباً دو تہائی تک بحال کرنے سے پٹھوں کے ضیاع میں بہتری شروع ہوئی اور متاثرہ چوہوں کی قبل از وقت اموات بھی رک گئیں۔
مستقبل میں علاج کی نئی امید
تحقیق میں ای آر آر گاما نامی پروٹین کا کردار بھی سامنے آیا، جو پٹھوں کو خلیاتی دباؤ کے مطابق ڈھلنے میں مدد دیتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق، مستقبل میں کارڈیولیپن کی سطح بحال کرنے یا اس پروٹین کے ذریعے پٹھوں کے حفاظتی نظام کو بہتر بنانے پر مبنی علاج تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
یہ دریافت عمر سے متعلق پٹھوں کی کمزوری کے علاج کی تحقیق کے لیے نئی راہیں کھولتی ہے، لیکن فی الحال اسے انسانوں کے لیے ثابت شدہ علاج نہیں سمجھا جاسکتا۔ آئندہ تحقیقات سے معلوم ہوگا کہ آیا اس طریقۂ کار کی مدد سے عمر رسیدہ افراد میں پٹھوں کی طاقت محفوظ رکھی جاسکتی ہے یا نہیں۔



