علاقائی خبریںقومی

آندھرا پردیش میں سائیکلون ارنب کی تباہی، 6 افراد ہلاک فصلیں برباد، بجلی کا نظام درہم برہم

آندھرا پردیش کے ساحلی اضلاع میں شدید سمندری طوفان ارنب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے، ہزاروں درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے، جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں مشرقی اور مغربی گوداوری کے علاوہ سابقہ کرشنا اور گنٹور اضلاع شامل ہیں۔

تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارش کے باعث کئی اضلاع میں منگل کی دوپہر سے بجلی کی فراہمی متاثر ہے۔ مختلف واقعات میں درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے اور مکانات منہدم ہونے سے اموات ہوئیں۔ اسی دوران ایک معاون نرس دائی (اے این ایم) نہر عبور کرنے کی کوشش کے دوران لاپتہ ہوگئی۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق، طوفان نے بدھ کی صبح رات 2 بجے سے صبح 8 بجے کے درمیان ساحل عبور کیا۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 125 سے 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ طوفان نے مغربی گوداوری ضلع میں نرساپور کے قریب ساحل سے ٹکرایا، جو یانم سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب مغرب اور کاکیناڈا سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔

ساحل عبور کرنے کے بعد طوفان کی شدت بتدریج کم ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، یہ شدید سمندری طوفان سے سمندری طوفان اور پھر گہرے ڈپریشن میں تبدیل ہوگیا۔ جمعرات کی صبح تک اس کے ڈپریشن اور رات تک کم دباؤ کے علاقے میں تبدیل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔

محکمہ موسمیات نے ساحلی آندھرا کے بعض علاقوں میں جمعرات کو ہلکی سے درمیانی بارش، گرج چمک اور ایک دو مقامات پر شدید بارش کی پیش قیاسی کی ہے۔ اس دوران ہواؤں کی رفتار 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے۔ رائلسیما میں بھی آئندہ دو دن بارش کا امکان ہے۔

مغربی گوداوری میں شدید نقصان

مغربی گوداوری ضلع میں طوفان کا اثر خاص طور پر شدید رہا۔ بھیم ورم میں سنکارا پیدّیا اسٹریٹ کے رہنے والے 46 سالہ سی کشور کمار اس وقت ہلاک ہوگئے جب قریبی دکان جاتے ہوئے ان پر درخت اور بجلی کا کھمبا گر گیا۔

حکام متاثرہ علاقوں میں بجلی بحال کرنے اور نقصان کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرکز کی جانب سے بھی ریاست کو امداد فراہم کرنے کی پیش کش کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button