بین الاقوامیعرب دنیا

اسرائیلی انتخابات حکومت سازی میں عرب جماعتیں بن سکتی ہیں فیصلہ کن قوت

اسرائیل کے انتخابات میں عرب سیاسی جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ عبوری نتائج کے مطابق، وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی قیادت والے حکومتی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ اپوزیشن، جس کی قیادت گادی آئزن کوٹ کررہے ہیں، 48 نشستوں پر آگے تھی۔ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔

اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی کے مطابق، ووٹوں کی گنتی تقریباً 90 فیصد مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا تھا۔ ایسے میں جوائنٹ لسٹ اور رعام سمیت عرب جماعتوں کی ممکنہ نشستیں حکومت سازی کے لیے اہم سمجھی جارہی ہیں۔ انتخابی اندازوں کے مطابق، عرب جماعتیں مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، تاہم ان کی حمایت سے کسی اتحاد کو اکثریت ملنے کا انحصار حتمی نتائج اور سیاسی مذاکرات پر ہوگا۔

جوائنٹ لسٹ کیا ہے؟

جوائنٹ لسٹ اسرائیل میں عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، جو پہلی مرتبہ 2015 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ اس میں حداش، بلد اور تعال شامل ہیں۔ رعام بھی پہلے اس اتحاد کا حصہ تھی، لیکن 2021 میں الگ ہوگئی۔ جوائنٹ لسٹ نے ماضی میں بھی کنیسٹ میں نمایاں نشستیں حاصل کیں، تاہم مختلف جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث اتحاد بعد میں ٹوٹ گیا تھا۔

2026 کے انتخابات میں غزہ اور لبنان کی جنگ کے پس منظر میں جوائنٹ لسٹ دوبارہ متحد ہوئی۔ یوسف جبارین کی قیادت میں اتحاد نے جنگ کے بجائے عوامی فلاح، رہائش، بہتر اجرت، مفت تعلیم، مزدوروں کے حقوق اور عرب آبادی میں منظم جرائم کے خاتمے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

رعام کا سیاسی مؤقف

رعام، جسے یونائیٹڈ عرب لسٹ بھی کہا جاتا ہے، ایک قدامت پسند سیاسی جماعت ہے جس کی جڑیں اسلامی تحریک میں رہی ہیں۔ منصور عباس کی قیادت میں جماعت اسرائیلی پارلیمنٹ کے اندر رہ کر عرب شہریوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی حامی ہے۔ 2021 میں رعام اسرائیل کی حکومتی اتحادی بننے والی پہلی عرب جماعت بنی تھی، جبکہ 2022 میں اپوزیشن میں چلی گئی۔

کیا عرب جماعتیں حکومت بنوا سکیں گی؟

جوائنٹ لسٹ کے رہنما جبارین نے نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے اور اسرائیل کی سیاسی صورتِ حال تبدیل کرنے کو اہم ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم، غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی اور جنوبی لبنان پر قبضے سے متعلق اپوزیشن کے مؤقف کے باعث آئزن کوٹ کے ساتھ تعاون آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب، منصور عباس نے نئی حکومت میں شامل ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر رہ کر عوام کے مسائل پر عملی پیش رفت ممکن ہے۔

تاہم، عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد پر کئی یہودی اکثریتی جماعتوں کے تحفظات موجود ہیں۔ اگر دونوں بڑے سیاسی اتحاد عرب جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اسرائیل میں دوبارہ انتخابات کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو عبوری وزیر اعظم کی حیثیت سے برقرار رہ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button