ٹرمپ نے کنساس اور آئیووا کے جلسے منسوخ کردیے، اب فون کے ذریعے انتخابی مہم چلائیں گے
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہفتہ اور اتوار کو کنساس اور آئیووا میں ہونے والے اپنے انتخابی جلسے منسوخ کردیے ہیں۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے مطابق، ٹرمپ اب براہِ راست جلسوں کے بجائے ٹیلی فون کے ذریعے انتخابی اجتماعات سے خطاب کریں گے، جس کے تحت تقریباً 20 ریاستوں کے ووٹروں تک رسائی حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل کیا گیا ہے، جن میں کانگریس پر ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول داؤ پر لگا ہوا ہے۔
ریپبلکن نیشنل کمیٹی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ٹرمپ آئندہ 72 گھنٹوں کے دوران فون کے ذریعے انتخابی مہم چلائیں گے۔ پارٹی کے مطابق، اس طریقے سے وہ کم وقت میں زیادہ ریاستوں کے ووٹروں اور ریپبلکن امیدواروں تک پہنچ سکیں گے۔ اکتوبر کے دوران ٹرمپ اب تک 25 انتخابی جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو جنوبی کیرولائنا کا دورہ کیا، جہاں وہ ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ڈارلین گراہم مرحوم سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں اور اپنے بھائی کی نشست پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ انہیں ڈیموکریٹ امیدوار اور ماہرِ اطفال اینی اینڈریوز سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
جنوبی کیرولائنا میں تقریباً تین دہائیوں سے کوئی ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹ کی نشست حاصل نہیں کرسکا ہے۔ تاہم، مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور ایران جنگ کے باعث عوامی ناراضگی کو ڈیموکریٹ امیدوار اپنی انتخابی مہم میں اہم موضوع بنا رہے ہیں۔
کنساس جانے کی ضرورت نہیں: ٹرمپ
کنساس کا دورہ منسوخ کرنے کے فیصلے پر جب ٹرمپ سے ان کی صحت کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا، ’’میں بالکل ٹھیک محسوس کررہا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کنساس میں ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کی پوزیشن اچھی ہے، اس لیے انہیں وہاں جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ مارشل کو ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن چیلنج کررہے ہیں۔
الاسکا اور مسیسیپی سمیت دیگر ریاستوں میں بھی انتخابی مقابلے پر نگاہ رکھی جارہی ہے۔ دونوں جماعتیں آخری دنوں میں انتخابی مہم کی حکمت عملی تبدیل کررہی ہیں، کیونکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج کانگریس میں سیاسی توازن کا فیصلہ کریں گے۔



