علاقائی خبریںقومی

گیانیش کمار کے خلاف انڈیا بلاک کا علامتی مواخذہ، کھرگے کا استعفے کا مطالبہ

انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک نے ہفتہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی عوامی مواخذے کا انعقاد کیا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ان کی برطرفی، ایس آئی آر کی کارروائی روکنے اور انتخابی کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب، بی جے پی نے اپوزیشن کے اس پروگرام کو ’’پارلیمنٹ کا مذاق‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ پروگرام نئی دہلی میں کھرگے کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس کی صدارت سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کی۔ اس موقع پر راہل گاندھی سمیت انڈیا بلاک کے مختلف رہنما اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔ واضح رہے کہ یہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والا قانونی مواخذہ نہیں بلکہ اپوزیشن کا علامتی سیاسی احتجاج تھا۔

کھرگے نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف چھ الزامات پیش کیے۔ ان میں انتخابی عمل میں مبینہ مداخلت، انتخابی فہرستوں سے 13.2 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کرنے، پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرستوں پر کنٹرول، دیگر دو انتخابی کمشنروں کو فیصلہ سازی سے الگ رکھنے اور وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر کام کرنے کے الزامات شامل ہیں۔ کھرگے نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے 193 ارکان پارلیمنٹ نے سات ماہ قبل گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے نوٹس جمع کرائے تھے، تاہم انہیں قبول نہیں کیا گیا۔

بی جے پی کا جوابی ردعمل

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سمبت پاترا نے اپوزیشن کے پروگرام کو ’’مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کا یہ علامتی پارلیمانی اجلاس دراصل پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو پر بھی انتخابی عمل میں پہلی مرتبہ ووٹ چوری کرنے کا الزام عائد کیا۔

پاترا نے ایس آئی آر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ریاستوں میں تقریباً 13 کروڑ نام ابھی حتمی انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق، غیر حاضر، مستقل طور پر منتقل شدہ، فوت شدہ اور دوہری اندراج والے ووٹروں کی شناخت کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں ریلی

انڈیا بلاک نے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ’’چلو دہلی‘‘ مارچ اور عوامی ریلی کا اعلان کیا ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، مارچ دوپہر 12 بجے منٹو روڈ اور کناٹ پلیس کے جنکشن سے شروع ہوکر رام لیلا میدان پہنچے گا۔ کوکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دپکے اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے بھی احتجاج کی حمایت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button