ہریانہ کے اسکول میں 8 سالہ لڑکے کا 6 سالہ بچی پر حملہ، حالت تشویشناک
ہریانہ کے پنچکولہ میں ایک اسکول کے اندر تیسری جماعت کے 8 سالہ طالب علم نے مبینہ طور پر کنڈرگارٹن کی 6 سالہ بچی پر پتھروں اور گملے سے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئی۔ واقعہ 28 اکتوبر کو سنسکرتی ماڈل اسکول میں پیش آیا۔ حملے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بچوں کی حفاظت اور اسکول انتظامیہ کی نگرانی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لڑکا بچی کو گھسیٹ کر کلاس روم میں لے جاتا ہے اور اس کا سر دو مرتبہ میز سے ٹکراتا ہے۔ اس کے بعد وہ اسے زمین پر گرا کر لاتیں مارتا ہے اور پتھروں کے ساتھ گملے سے بھی حملہ کرتا ہے۔ شدید زخمی ہونے کے بعد بچی بے ہوش ہوگئی، لیکن لڑکا اس کے باوجود اسے گھسیٹتا اور لاتیں مارتا رہا۔ تقریباً ڈیڑھ منٹ بعد وہ کلاس روم سے باہر نکل گیا۔
اطلاعات کے مطابق، جب بچی کے والدین اسے اسکول سے لینے پہنچے تو مبینہ طور پر اسی لڑکے نے انہیں کلاس روم میں لے جاکر بتایا کہ ان کی بچی وہاں پڑی ہے۔
والدین فوری طور پر بچی کو سیکٹر 6 کے سول اسپتال لے گئے، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ تاہم، حالت تشویشناک ہونے کے باعث اسے چندی گڑھ کے پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی) منتقل کردیا گیا، جہاں اس کی حالت بدستور سنگین بتائی جارہی ہے۔
پولیس تحقیقات اور اسکول انتظامیہ سے متعلق سوالات
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور مبینہ طور پر حملہ کرنے والے لڑکے کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ بچی کے چچا نے الزام لگایا کہ لڑکے نے اس وقت حملہ کیا جب بچی نے اسے اس کی شکایت اساتذہ سے کرنے کی بات کہی تھی۔ چچا کے مطابق، لڑکے کے جارحانہ رویے سے متعلق پہلے بھی شکایات سامنے آچکی تھیں، جن میں کتوں کو مارنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب، ہریانہ کے وزیر تعلیم مہیپال ڈھانڈا نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے اور لاپروائی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔



