ہندوستان کا اپنا نیویگیشن نظام مضبوط، اسرو نے کامیابی سے این وی ایس-03 سیٹلائٹ لانچ کردیا
ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے اسرو نے جمعہ کی رات اپنا جدید نیویگیشن سیٹلائٹ این وی ایس-03 کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا۔ جی ایس ایل وی راکٹ کے ذریعے اس سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں پہنچایا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہندوستان کے خودمختار سیٹلائٹ نیویگیشن نظام نیویک کو کم از کم چار فعال سیٹلائٹس کی عملی صلاحیت دوبارہ حاصل ہوگئی ہے۔
تقریباً 50 میٹر بلند جی ایس ایل وی راکٹ جمعہ کی رات 11 بج کر 51 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز کے دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ ہوا۔ اس سے قبل 24 گھنٹے کی الٹی گنتی مکمل کی گئی تھی۔ تقریباً 18 منٹ کی پرواز کے دوران راکٹ کے تینوں مراحل، بشمول پیچیدہ کرائیوجینک بالائی مرحلے نے کامیابی سے کام کیا اور سیٹلائٹ کو جیو سنکرونس ٹرانسفر مدار میں پہنچا دیا گیا۔
ہندوستان کے اپنے جی پی ایس نظام کو تقویت
اسرو کے مطابق، این وی ایس-03 دوسری نسل کے نیویگیشن سیٹلائٹس کی سیریز کا تیسرا سیٹلائٹ ہے۔ اس میں ہندوستان میں تیار کردہ ایٹمی گھڑی کے علاوہ دیگر ایٹمی گھڑیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جو درست مقام، سمت اور وقت سے متعلق خدمات فراہم کرنے میں مدد دیں گی۔
نیویک ہندوستان کا اپنا علاقائی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام ہے، جسے عالمی نظامِ تعیینِ مقام (جی پی ایس) کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ ہندوستانی زمینی حدود اور اس کے اطراف تقریباً 1,500 کلومیٹر تک کے علاقے میں خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
56 دن میں دوسری جی ایس ایل وی پرواز
لانچ کے بعد اسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے کہا کہ نیویک نظام ہندوستان کے ’’ایک ملک، ایک وقت‘‘ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق، اس میں شامل تین سیٹلائٹس پہلے ہی کامیابی سے کام کررہے ہیں اور این وی ایس-03 کی شمولیت سے مقام، نیویگیشن اور وقت سے متعلق خدمات مزید مضبوط ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اسرو نے مسلسل دو جی ایس ایل وی مشنز کے درمیان صرف 56 دن کا وقفہ رکھا، جو اب تک کا مختصر ترین وقفہ ہے۔ ان کے مطابق، نیویک ہندوستان کا ایک اہم قومی اثاثہ ہے، جو ملک کو نیویگیشن اور وقت کے تعین کے لیے خودمختار سہولت فراہم کرتا ہے۔
حکومت کی جانب سے ہندوستانی معیاری وقت سے متعلق 2026 کے نئے ضوابط کے اعلان کے تناظر میں بھی نیویک کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس سیٹلائٹ کی کامیابی سے ہندوستان کے خلائی اور نیویگیشن انفراسٹرکچر کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے۔



