تلنگانہ میں 1,236 کروڑ کی لاگت سے 131 کلومیٹر طویل چار لین شاہراہ، آرمور سے منچریال کا سفر ہوگا آسان
تلنگانہ میں آرمور سے منچریال کے درمیان قومی شاہراہ کو چار لین میں توسیع دینے کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تقریباً 1,236.36 کروڑ روپے کی لاگت سے 131.89 کلومیٹر طویل سڑک کی تعمیر کا کام آئندہ دو ماہ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس منصوبے سے نظام آباد، جگتیال اور منچریال کے درمیان آمدورفت مزید تیز اور محفوظ ہونے کی توقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق، نظام آباد سے جگدل پور جانے والی قومی شاہراہ نمبر 63 کے آرمور۔منچریال سیکشن کی تعمیر کا ٹھیکہ بھوپال کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے محکمہ جنگلات نے پہلے ہی اجازت دے دی ہے، جبکہ مرکزی وزارتِ خزانہ سے بھی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔ زمین حاصل کرنے والے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے ایوارڈ جاری کرنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے۔
دس سال پرانا منصوبہ، خصوصی روٹ تیار
مرکزی حکومت نے 2016 میں بھارت مالا پریوجنا کے تحت اس شاہراہ کو وسعت دینے کے لیے گرین فیلڈ روٹ کی تجویز پیش کی تھی۔ منصوبے میں موجودہ سڑک کو چار لین بنانے کے ساتھ رائے پٹنم میں دریائے گوداوری کے موجودہ پل کے متوازی ایک نیا پل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2022 میں نشاندہی کا کام مکمل کیا گیا۔
منصوبے کے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے ہوئے دھرم پوری کے مشہور لکشمی نرسمہا سوامی مندر اور گودیم کے ستیہ نارائنا سوامی مندر کو متاثر ہونے سے بچانے کا خیال رکھا گیا ہے۔ اسی طرح کورتلا، میٹ پلی اور جگتیال کے گنجان آبادی والے علاقوں میں ٹریفک سے بچنے کے لیے بائی پاس سڑکیں تعمیر کرنے کی تجویز ہے۔
منصوبے کی اہم خصوصیات
اس شاہراہ کے لیے ہائبرڈ اینیوٹی ماڈل اختیار کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت تقریباً 378 ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے اور اندازہ ہے کہ سفر کے وقت میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی کمی آئے گی۔
فی الحال آرمور سے منچریال کے درمیان اہم قصبوں میں ٹریفک کا دباؤ مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ چار لین شاہراہ اور بائی پاس سڑکوں کی تعمیر سے شہری علاقوں میں ٹریفک جام کم کرنے، سامان کی نقل و حمل بہتر بنانے اور مختلف اضلاع کے درمیان رابطہ مضبوط ہونے کی توقع ہے۔



