علاقائی خبریںقومی

احتجاج کے لیے عوامی مقامات پر غیر معینہ قبضہ نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ کا اہم ریمارک

سپریم کورٹ نے منگل کو اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فرد، تنظیم یا گروپ احتجاج کے نام پر کسی مخصوص مقام پر غیر معینہ مدت تک قبضہ نہیں کرسکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ہر شخص کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن کسی ایک گروپ کو مستقل طور پر عوامی مقام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کیونکہ دوسرے احتجاج کرنے والوں کو بھی ان مقامات تک رسائی کا حق ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ دہلی میں گزشتہ ماہ ہونے والے احتجاج سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کررہا تھا۔ ان میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج، پولیس کی مبینہ زیادتیوں، بڑے پیمانے پر حراست میں لیے جانے، انٹرنیٹ پابندیوں اور کاروباری سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق درخواستیں شامل ہیں۔

چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارک دیا کہ کسانوں، وکلا، صحافیوں اور دیگر گروپس کو بھی احتجاج کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص احتجاجی مقامات کے لیے وقت کی حد مقرر ہونی چاہیے اور کسی ایک گروپ کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ دوسروں کو وہاں احتجاج کرنے سے روک دے۔

احتجاج کے منتظمین بھی جواب دہ ہوں: مرکز

مرکزی حکومت کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ احتجاج کی اپیل کرنے والوں کو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے جولائی کے نیٹ امتحان سے متعلق احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک روز کی اجازت کے باوجود مظاہرین 17 دن تک مقام پر موجود رہے۔

تشار مہتا نے یہ بھی کہا کہ بغیر اجازت پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دوسری جانب سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران کم از کم 7 ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم، تشار مہتا نے اسے حراست میں لینا نہیں بلکہ مظاہرین کو مقام سے ہٹانا قرار دیا۔

تاجروں نے کاروباری نقصان کا معاملہ اٹھایا

عدالت میں دہلی کی تجارتی تنظیم کریانہ کمیٹی دہلی کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ سینئر وکیل مکل روہتگی نے کہا کہ احتجاج کے باعث خصوصاً تہواروں کے موسم میں کاروبار شدید متاثر ہوا اور کئی علاقوں میں دکانیں بند رہیں۔ انہوں نے آئندہ دو ماہ تک دہلی میں احتجاجی اجتماعات روکنے کی درخواست کی۔

عدالت نے ہدایت دی کہ تجارتی تنظیمیں اپنی درخواست میں احتجاج کے منتظمین کو بھی فریق بنائیں، تاکہ ان کا مؤقف بھی سنا جاسکے۔ عدالت نے مرکز اور دیگر متعلقہ فریقین سے بھی جواب طلب کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button