تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ کے 30 ہزار کروڑ کے خشک سالی پیکیج پر دہلی میں مایوسی

تلنگانہ میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے لیے 30 ہزار کروڑ روپے کے خصوصی امدادی پیکیج کا مطالبہ کرنے والی کانگریس حکومت کو دہلی کے تین روزہ دورے کے باوجود مرکزی حکومت سے کوئی ٹھوس یقین دہانی حاصل نہیں ہوسکی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور کابینہ کے کئی وزراء نے قومی دارالحکومت میں قیام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ اور متعلقہ مرکزی وزراء سے ملاقات کی کوشش کی، تاہم ان میں سے کسی کے ساتھ ملاقات ممکن نہیں ہوسکی۔

ریاستی حکومت نے خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کی مدد کے لیے مرکز سے مالی تعاون طلب کیا ہے۔ ریونت ریڈی اور ان کے وزراء نے دہلی میں کانگریس کے احتجاجی پروگراموں میں بھی شرکت کی، تاہم خصوصی امدادی پیکیج کے مطالبے پر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ حکومت نے اپنا خشک سالی سے متعلق رپورٹ بھی 28 اکتوبر کو مرکز کے حوالے کردی تھی۔

آندھرا پردیش نے تلنگانہ سے پہلے کارروائی کی

خشک سالی سے نمٹنے کے معاملے میں تلنگانہ حکومت کی حکمت عملی کا موازنہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش سے بھی کیا جارہا ہے۔ آندھرا پردیش نے یکم اکتوبر کو ہی 388 منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے دیا تھا اور مرکزی جائزہ ٹیم بھی تعینات کردی گئی ہے، جس کا دورہ اسی ہفتے متوقع ہے۔

اس کے برخلاف تلنگانہ نے 27 اکتوبر کو 365 منڈلوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا۔ فی الحال ریاست کے لیے مرکزی جائزہ ٹیم کی تعیناتی نہیں ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں بارش کی کمی تقریباً 17 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ سرکاری ذرائع کے مطابق کرناٹک اور آندھرا پردیش میں بارش کی کمی اس سے زیادہ رہی ہے۔

20 ہزار کروڑ سے 30 ہزار کروڑ تک پہنچا مطالبہ

تلنگانہ اسمبلی نے 18 ستمبر کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے 20 ہزار کروڑ روپے کی خصوصی امداد، مرکزی جائزہ ٹیم اور قومی و ریاستی آفات راحت فنڈ کے تحت مالی تعاون کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد میں خصوصی امدادی پیکیج کی رقم بڑھا کر 30 ہزار کروڑ روپے کردی گئی۔

ریاستی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے قرض لینے کی حد بھی مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کے 3 فیصد سے بڑھاکر 3.5 فیصد کرنے کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب، ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکا کی صدارت میں 28 اکتوبر کو منعقدہ کل جماعتی اجلاس میں اپوزیشن کی تجاویز پر غور اور آئندہ لائحہ عمل تیار کرنے کی بات کہی گئی۔ تاہم، تمام جماعتوں کے قائدین پر مشتمل وفد کے مجوزہ دہلی دورے کی تاریخ اور دیگر تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

ریاست کے 365 منڈلوں میں خشک سالی کے اعلان کے بعد کسان فصلوں کے نقصان اور مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے میں مرکزی امداد اور متاثرہ کسانوں تک راحت پہنچانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button