امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔ اس نتیجے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ ڈیموکریٹس نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی سینیٹ کی نشستیں جیتیں جہاں طویل عرصے سے ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوتے رہے تھے۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق، ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی کم از کم سات نشستیں حاصل کیں، جن میں کنساس، آئیووا، ٹیکساس، اوہائیو، مین، نارتھ کیرولائنا اور ساؤتھ کیرولائنا شامل ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں بھی پارٹی نے دو درجن سے زائد نشستیں ریپبلکنز سے چھین لیں۔ اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے قانون سازی کے منصوبوں کی مخالفت، ان کی نامزدگیوں کو روکنے اور حکومتی امور کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگا۔
عبد الاسید کی کامیابی، امریکہ کے پہلے مسلم سینیٹر بننے کی راہ
دیگر اہم نتائج میں ٹیکساس سے جیمز ٹالاریکو، کنساس سے ایڈم ہیملٹن، آئیووا سے جوش ٹوریک، مین سے ٹرائے جیکسن اور اوہائیو سے شیروڈ براؤن کی کامیابی شامل ہے۔ ساؤتھ کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے بھی ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ الاسکا میں ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔
حکیم جیفریز تاریخ رقم کرنے کے قریب
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد حکیم جیفریز اسپیکر بننے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ اگر وہ منتخب ہوگئے تو امریکی تاریخ میں ایوانِ نمائندگان کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔ نئے کانگریس اجلاس میں ان کے انتخاب کے لیے 3 جنوری کو ووٹنگ متوقع ہے۔
صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کی تعریف کی ہے، تاہم انہوں نے نتائج کو اپنی صدارت کے خلاف عوامی فیصلہ تسلیم کرنے سے گریز کیا۔ انتخابات میں مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ اور حکومتی بدعنوانی سے متعلق خدشات اہم انتخابی موضوعات رہے۔



