تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ کے 6 ہزار کروڑ کے چاول اسکام میں عہدیداروں اور ملرس کے گٹھ جوڑ کا شبہ

تلنگانہ میں تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کے کسٹم ملڈ رائس (سی ایم آر) اسکام کی تحقیقات کے دوران محکمہ سیول سپلائیز کے بعض عہدیداروں اور چاول کی ملوں کے مالکان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔ ویجیلنس اینڈ انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ اور کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی تحقیقات میں انفورسمنٹ ٹاسک فورس (ای ٹی ایف) کے بعض اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

تحقیقی ایجنسیوں کے مطابق، ریاست بھر میں چاول کے ملرس پر تقریباً 6 ہزار کروڑ روپے کے سی ایم آر واجبات باقی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 300 ملرس پر 4 ہزار کروڑ روپے واجب الادا ہونے کا اندازہ ہے۔ تین اضلاع میں ہی تقریباً 25 فیصد بقایاجات سامنے آئے ہیں، جن میں شمالی تلنگانہ کے ایک ضلع میں 670 کروڑ، جنوبی تلنگانہ کے ایک ضلع میں 600 کروڑ اور ایک پڑوسی ضلع میں 300 کروڑ روپے شامل ہیں۔

ای ٹی ایف عہدیداروں کا کردار زیر تفتیش

تحقیقات میں الزام سامنے آیا ہے کہ بعض ضلعی سطح کے سیول سپلائیز عہدیداروں اور ای ٹی ایف اہلکاروں نے ملرس کو مبینہ بے ضابطگیوں میں مدد فراہم کی۔ ایک ای ٹی ایف افسر کو حال ہی میں عہدے سے ہٹایا گیا، جبکہ سی آئی ڈی نے اسکام کے سلسلے میں ایک دوسرے عہدیدار کو گرفتار کیا ہے۔

ای ٹی ایف میں طویل عرصے سے تعینات ریٹائرڈ عہدیداروں کے کردار کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بعض ریٹائرڈ افسران پانچ سے دس سال تک اہم عہدوں پر برقرار رہے اور نئے گریڈ ون عہدیداروں کی تقرری کے باوجود ان کا اثر و رسوخ ختم نہیں ہوا۔

بے نامی ملوں کے ذریعے نئی الاٹمنٹ کا شبہ

تفتیشی ایجنسیاں اس بات کی جانچ کررہی ہیں کہ آیا سی ایم آر کے ڈیفالٹر ملرس نے بے نامی افراد کے نام پر نئی چاول کی ملیں قائم کرکے دوبارہ سرکاری الاٹمنٹ حاصل کی۔ جنوبی تلنگانہ کے ایک معاملے میں مبینہ طور پر ایک ڈیفالٹر نے دوسرے ضلع میں آٹھ نئی ملیں قائم کیں۔

ضلع نرمل میں گزشتہ چار برسوں کے دوران 24 نئی ملوں کو اجازت دیے جانے کی بھی جانچ ہورہی ہے۔ الزام ہے کہ بعض چھوٹی ملوں کو بھی سی ایم آر الاٹمنٹ دی گئی، حالانکہ ان کے پاس ضروری مشینری موجود نہیں تھی۔ ضلع ملوگو کی ایک مل میں سورٹیکس مشین کی دستیابی سے متعلق بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

چاول سے لدے ٹرکوں کی جانچ میں بے ضابطگیاں

تحقیقات میں اگست کے ایک واقعے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، جس میں ای ٹی ایف اہلکاروں نے جنوبی تلنگانہ میں چاول سے لدے 10 ٹرک روکے، تاہم مبینہ طور پر صرف ایک ٹرک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور باقی کو جانے دیا گیا۔ حکام اس معاملے میں مبینہ مالی لین دین اور اہلکاروں کے نجی دفاتر کے ذریعے ملرس سے روابط کی بھی جانچ کررہے ہیں۔

تحقیقات جاری ہیں اور ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ چاول کے ملرس اور نگرانی کے ذمہ دار عہدیداروں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button