تلنگانہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران بڑا حادثہ، جھیل میں کشتیاں الٹنے سے لاپتہ 10 اہلکار بحفاظت بچالیے گئے
تلنگانہ کے ضلع کھمم میں سیلابی پانی سے بھری جھیل میں ماہی گیروں کو بچانے کی کوشش کے دوران ریاستی آفات سے نمٹنے والی فورس (ایس ڈی آر ایف) کے 10 اہلکاروں کی کشتیاں الٹ گئیں، تاہم رات بھر جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد تمام اہلکاروں کو بحفاظت بچالیا گیا۔ یہ واقعہ بدھ کی رات ستّوپلی منڈل کی بیتھوپلی جھیل میں پیش آیا۔
حکام کے مطابق، جھیل میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث بعض ماہی گیر پھنس گئے تھے۔ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں دو کشتیوں کے ذریعے پانی میں اتریں۔ تاہم، تیز آبی بہاؤ کے باعث دونوں کشتیاں الٹ گئیں اور ان میں سوار اہلکار پانی میں بہہ گئے۔
حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں فوری طور پر شروع کردی گئیں۔ پانی کے تیز بہاؤ میں پھنسے اہلکاروں نے جھیل کے کنارے موجود درختوں کا سہارا لے کر خود کو محفوظ رکھا، جس کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیموں نے رات بھر کارروائی کرتے ہوئے انہیں بحفاظت نکال لیا۔
ضلع کلکٹر دیواکارا ٹی ایس نے جمعرات کو تصدیق کی کہ تمام 10 اہلکاروں کو بچالیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جھیل میں پھنسے ماہی گیروں کو بھی بدھ کی رات ہی بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔
سائیکلون مراسو کے اثرات سے جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ
تلنگانہ کے وزیر برائے محصولات پونگو لیٹی سرینواس ریڈی نے کامیاب ریسکیو آپریشن پر عہدیداروں اور امدادی ٹیموں کی ستائش کی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو امدادی کارروائی میں تعینات کرنے کی اطلاع دی تھی۔
تمام اہلکاروں اور ماہی گیروں کی بحفاظت واپسی سے ان کے خاندانوں اور مقامی عوام نے راحت کی سانس لی ہے۔



