حوثی حملوں سے سعودی عرب کی مشکلات میں اضافہ، باب المندب پر ایران کا اثر بڑھنے کا خدشہ
یمن کی حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی نے مغربی ایشیا میں طاقت کی علاقائی کشمکش کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی مقامات کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ ان حملوں سے سعودی عرب کے اقتصادی منصوبوں اور ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے لیے بھی نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ تاہم، حوثیوں کے بعض حملوں کے دعووں کی سعودی حکام یا آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق، حوثی تحریک نے 2 نومبر کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دمام ایئرپورٹ، جیزان میں ابتدائی انتباہی ریڈار اور ایک فوجی طیارے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ 5 نومبر کو بھی تحریک نے دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے اور فضائی آمدورفت متاثر ہونے کا دعویٰ کیا۔ دوسری جانب، سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے 8 نومبر کو مشرقی علاقے کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کی اطلاع دی۔
باب المندب پر کنٹرول کی کشمکش
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کی جڑیں یمن کی طویل خانہ جنگی اور دونوں فریقوں کے سیاسی و علاقائی مفادات میں موجود ہیں۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ ایران کے قریب سمجھی جانے والی حوثی تحریک ملک کے شمال مغربی علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے۔
جولائی 2026 میں کشیدگی اس وقت بڑھی جب سعودی عرب نے شمالی یمن کی فضائی حدود پر پابندیاں نافذ کرنے کے دوران صنعاء ایئرپورٹ پر بمباری کی۔ اس کے جواب میں حوثیوں نے سعودی ہوائی اڈوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں اور ’’ناکہ بندی کے جواب میں ناکہ بندی‘‘ کی پالیسی کا اعلان کیا۔ اس کے تحت سعودی جہازوں کی باب المندب سے آمدورفت روکنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
سعودی عرب کے وژن 2030 کو درپیش خطرات
ولی عہد محمد بن سلمان کا وژن 2030 تیل پر انحصار کم کرکے سیاحت، صنعت اور لاجسٹکس کے شعبوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بحری راستوں کو درپیش خطرات سرمایہ کاری اور بین الاقوامی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔
سکیورٹی خدشات کے باعث خلیج تعاون کونسل اور یورپی یونین کا 24 اکتوبر کو ریاض میں ہونے والا سربراہی اجلاس بھی ملتوی کردیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون سعودی عرب کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، تاہم حوثی تحریک کے اپنے سیاسی اور علاقائی مفادات بھی ہیں۔ اس لیے اسے صرف ایران کے احکامات پر عمل کرنے والی تنظیم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
خطے میں جاری کشیدگی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور اقتصادی مفادات کا تحفظ کس طرح کرتا ہے اور یمن میں سیاسی مذاکرات کے ذریعے تنازع کم کرنے میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوتی ہے۔



