بستر میں جوانوں کے ساتھ دیوالی، مودی کا ذہنی نکسلوں پر انتباہ
وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو چھتیس گڑھ کے بستر ضلع میں سی آر پی ایف کیمپ میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منائی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلح نکسل ازم کے خلاف لڑائی میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، تاہم خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ جنگلات سے مسلح نکسلوں کا خاتمہ ہونے کے بعد اب ’’ذہنی نکسل‘‘ کئی اداروں میں سرگرم ہیں، جو عوام کو ملک کے جمہوری نظام اور آئین کے خلاف اکسانے کی کوشش کررہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لیے ایسے عناصر کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نظریاتی طور پر نکسل ازم کی حمایت کرنے والے افراد نے کئی سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں میں جگہ بنالی ہے۔
نکسل ازم کے خاتمے کے بعد پہلی دیوالی
مودی نے کہا کہ دیوالی 2026 ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ کئی دہائیوں سے جاری نکسل ازم اور ماؤ نواز دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ملک نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا بہادر جوانوں اور اہلکاروں کو جاتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ ملک کے کروڑوں شہریوں کی جانب سے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے اور ان کی خدمات کا شکریہ ادا کرنے بستر پہنچے ہیں۔
سابقہ حکومتوں پر بھی تنقید
مودی نے سابقہ حکومتوں پر نکسل ازم کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 2004 سے 2013 کے دوران نکسل مخالف کارروائیوں میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد ہلاک ہونے والے نکسلوں سے زیادہ تھی۔
انہوں نے 2010 میں دنتے واڑہ میں پیش آنے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک حملے میں 76 سی آر پی ایف جوان اور ایک دوسرے واقعے میں 44 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے مطابق، اس وقت کی حکومتوں نے اس مسئلے کو ایک ناقابلِ علاج بیماری سمجھ کر نظرانداز کیا۔
مودی نے سکیورٹی اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں سے بستر میں امن اور ترقی کے نئے راستے کھلے ہیں۔ انہوں نے جوانوں کو دیوالی کی مبارکباد بھی پیش کی۔



