ایران نے مذاکرات کی شرائط بتادیں، ریاض پر حملہ ناکام
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط واضح کردی ہیں، جبکہ سعودی عرب نے ریاض کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائل سمیت حوثیوں کے متعدد حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ سلامتی عہدیدار محسن رضائی کے مطابق تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے وائٹ ہاؤس کو مذاکرات کی شرائط پہنچا دی ہیں۔
ایران کی مذاکراتی شرائط
ایرانی حکام کے مطابق شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کو جنگ بھی لڑنی اور مذاکرات بھی کرنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اہم مرحلے پر مکمل فوجی طاقت استعمال کرتے ہوئے دشمن کو پیچھے دھکیلنا ہوگا، جبکہ میدان جنگ میں اہم کامیابی کے بعد سفارت کاری کے ذریعے حاصل نتائج کو مستحکم کیا جانا چاہیے۔ قالیباف نے آبنائے ہرمز کھلے رکھنے کو امریکی وعدوں کی تکمیل سے مشروط قرار دیا۔
ریاض پر میزائل حملہ ناکام
یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ ریاض کی جانب آنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو روک دیا گیا۔ بش، طائف، فرسان اور ینبع کو نشانہ بنانے کی دیگر کوششیں بھی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکا نے مشرق وسطیٰ کے نو ممالک میں موجود اپنے شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔
لبنان میں بچہ زخمی
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق لبنان میں بے گھر افراد کی تعداد اپریل میں بارہ لاکھ سے زیادہ تھی، جو اب تقریباً تین لاکھ تیس ہزار رہ گئی ہے۔ اسرائیلی حملوں میں چار ہزار تین سو اسی سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر محمد المصری کے مطابق ریاض کو نشانہ بنانا حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو ایک پیغام ہوسکتا ہے، تاہم اس سے فوری طور پر وسیع جنگ کا امکان ثابت نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق امریکا یا دیگر اتحادی ممالک کی براہ راست فوجی مداخلت فی الحال غیر یقینی ہے۔



