ریاض میں دوسرا خطرے کا انتباہ، شہریوں میں تشویش
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتہ کی صبح اس وقت تشویش پھیل گئی جب ریاض اور الخرج گورنری میں دوسری مرتبہ خطرے کا انتباہ جاری کیا گیا۔ شہریوں میں خوف کی کیفیت پیدا ہوئی، تاہم سعودی شہری دفاع کی جانب سے خطرہ ٹلنے اور صورتحال قابو میں ہونے کے اعلان کے بعد لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔
ریاض میں دوسرا انتباہ
مقامی افراد کے مطابق ہفتہ کی صبح ریاض کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے بعد قومی انتباہی نظام کے ذریعے شہریوں کے موبائل فون پر فضائی دفاع سے متعلق الرٹ بھیجے گئے۔ شہری دفاع نے بعد میں اپنے ایکس کھاتے پر اعلان کیا کہ خطرہ ختم ہوچکا ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی کہ واقعے کے مقام پر ہجوم جمع نہ کریں اور اس سے متعلق تصاویر بنانے سے گریز کریں۔ لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے اور کھڑکیوں اور بالکونیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا۔
سعودی شہروں میں الرٹ
یہ ریاض میں ایسا پہلا انتباہ ہے، جب سے یمن کے حوثیوں کے حملوں میں شدت دیکھی گئی ہے۔ جمعہ کے روز جدہ، طائف اور العلا سمیت دیگر شہروں میں بھی انتباہات جاری کیے گئے تھے، تاہم بعد میں انہیں ختم کردیا گیا۔
جولائی سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ جمعرات کو طائف میں ایک حوثی ڈرون کو مار گرایا گیا تھا۔ اس واقعے میں ایک یمنی شہری ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔
حوثیوں کا مؤقف
ریاض میں دوسرے انتباہ کے بعد پیدا ہونے والی کچھ دیر تشویش رہی، تاہم شہری دفاع کے اعلان نے صورتحال واضح کردی۔



