ایران جنگ کے خاتمے کے قریب پہنچنے کی ٹرمپ کو امید، جوہری خطرے پر امریکا کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ممکنہ طور پر اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ تقریباً سات ماہ سے جاری تنازع کے دوران ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خطرہ اب ختم ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے بیان کے ایک روز بعد مشرق وسطیٰ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ ایران پر بڑھتے ہوئے فوجی اور معاشی دباؤ کے نتیجے میں جنگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے یا ملک میں موجودہ نظام شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہر نازی مونی کے مطابق دونوں امکانات بیک وقت موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا اسلامی نظام فوجی اور معاشی اعتبار سے شدید دباؤ میں ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے تہران کو ایسے مرحلے کے قریب پہنچا دیا ہے جہاں اسے یا تو دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے محدود راستہ اختیار کرنا ہوگا، امریکا کے خلاف فوجی کارروائی میں شدت لانا ہوگی یا پھر اندرونی طور پر شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں مزید اضافے یا جنگ ختم کرنے کے راستے کے درمیان ایک بڑے فیصلے پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امکان کا بھی ذکر کیا کہ ایرانی نظام کے خلاف کارروائی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے تیل کی برآمدات کے لیے متبادل راستے استعمال کرنے کی اطلاعات کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت 1.01 ڈالر کم ہو کر 104.82 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 52 سینٹ کمی کے ساتھ 101.91 ڈالر فی بیرل رہی۔



