ٹرمپ کے روس پابندی قانون سے بھارت پر 100 فیصد محصولات کی زد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر پابندیوں سے متعلق قانون پر دستخط کردیے ہیں، جس کے بعد روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر ایک سو فیصد تک محصولات عائد کرنے کا راستہ کھل گیا ہے۔ اس قانون سے بھارت اور چین بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ قانون روسی حکام، بینکوں، توانائی کے شعبے اور ماسکو کی فوجی سرگرمیوں میں مدد دینے والے اداروں کو نشانہ بناتا ہے۔
قانون میں کیا شامل ہے
قانون کا نام لنڈسی او گراہم روس اور ایران پابندی ایکٹ دو ہزار چھبیس رکھا گیا ہے۔ قانون کے تحت روسی مصنوعات پر پانچ سو فیصد تک محصولات اور روسی توانائی خریدنے والے ممالک کی مصنوعات پر ایک سو فیصد تک محصولات عائد کیے جاسکتے ہیں۔
بھارت پر ممکنہ اثر
اگر ٹرمپ بھارت پر ایک سو فیصد محصول عائد کرتے ہیں تو یہ موجودہ دس فیصد امریکی محصول کے علاوہ ہوگا۔ نئے محصول کا اثر اس وقت واضح ہوگا جب امریکی حکومت شرح کا اعلان کرے گی۔
بھارت کا ردعمل
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ملک اپنے تجارتی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ وزارت کے مطابق بھارت اپنے ایک ارب چالیس کروڑ شہریوں کی توانائی سلامتی کے لیے خریداری جاری رکھے گا۔
بھارت نے کہا کہ روسی تیل کی تجارت کے ممکنہ اثرات پر امریکی حکام سے اعلیٰ سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔ بعض امریکی ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے محصولات قیمتوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یہ معاملہ بھارت کی روسی توانائی خریداری میں اہم ہے۔



