اسرائیل کی کارروائیوں پر سوال، جنگ ختم کرنے والے مذاکرات کار بھی نشانے پر
ایران، غزہ اور لبنان میں جاری تنازعات کے دوران اہم سیاسی اور مذاکراتی شخصیات کے قتل نے یہ بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے کہ کیا ایسی کارروائیاں جنگ کے خاتمے کے امکانات کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ طویل جنگ کے بعد فریقین بالآخر مذاکرات کی طرف آتے ہیں، تاہم اس کے لیے ایسے افراد ضروری ہوتے ہیں جو بات چیت کرسکیں اور کسی معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت دے سکیں۔
برطانوی خفیہ ادارے کے سابق سربراہ سر جان ساورز نے ستمبر ۲۰۲۶ کے اوائل میں ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے ایرانی رہنما علی لاریجانی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق لاریجانی ان چند ایرانی شخصیات میں شامل تھے جو دونوں جانب کے لیے قابل قبول معاہدے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
نومبر ۲۰۲۰ میں ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ اہم شخصیت محسن فخری زادے کو تہران کے قریب قتل کیا گیا۔ اس کارروائی کو وسیع پیمانے پر اسرائیل سے منسوب کیا گیا، جبکہ اس وقت امریکا میں نئی حکومت ایران کے ساتھ ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے کی بحالی پر غور کر رہی تھی۔
لبنان میں بھی فروری ۱۹۹۲ میں حزب اللہ کے سربراہ عباس الموسوی کے قتل کے بعد حسن نصراللہ نے تنظیم کی قیادت سنبھالی۔ اسی طرح جولائی ۲۰۲۴ میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور غزہ جنگ بندی مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے اسماعیل ہنیہ کو قتل کیا گیا۔ بعد ازاں یحییٰ سنوار نے تنظیم میں اہم ذمہ داری سنبھالی۔
تجزیے کے مطابق ان کارروائیوں کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہے اور ان کے مقاصد پر بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ تاہم سوال برقرار ہے کہ اگر مذاکرات کی صلاحیت رکھنے والی شخصیات مسلسل ختم ہوتی رہیں تو جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے ضروری رابطہ کاری کون کرے گا۔ ایران کے معاملے میں بھی یہ واضح نہیں کہ فوجی کارروائیوں کے بعد صورتحال کس سمت جائے گی۔



